یہ وہ تلوار ہے جو رخنہ پذیر نہیں ہوگی فیؔ وجھنا نور المھیمن لا ئحٌ ان کان فیکم ناظر متوسّم ہمارے مُنہ پر خدا کا نور روشن ہے اگر تم میں کوئی دیکھنے والا ہو ماقُلْتَ یا عبد الحکیم بجنبنا الّا کخذف عند سیف یصرم اے عبد الحکیم تونے ہمارے مقابل پر جو باتیں کی ہیں تو وہ ایک روڑہ کی طرح ہے جو چلایا جاتا ہے بمقابل اُس تلوار کے جو کاٹتی ہے وَاللّٰہِ لَا یُخْزیٰ عزیز جنابہ وَاللّٰہ لا تُعطی العلاء و تُرجم بخدا کہ خدا تعالیٰ کا عزیز رُسوا نہیں ہوگا اور بخدا کہ تُو غالب نہیں ہوگا اور ردّ کیا جائے گا ھٰذا من الرحمٰن نَبَأٌ محکم فاسمع ویأتی وقتہ المتحتّم یہ خدا کی طرف سے خبر پختہ ہے محکم ہے پس سُن رکھ اور اس کا قرار دادہ وقت آرہا ہے واللّٰہ یُنْقَضُ کلّ خیط مکائد لَیْن سحیل اوشدید مبرم اور بخدا ہر ایک مکر کا دھاگہ توڑ دیاجائے گا خواہ وہ نرم مکر ہے اور خواہ سخت مکر ہے کفِّرو ما التکفیر منک ببدعۃ رسم تقادم عھدہ المتقدّم مجھے کافر کہہ اور کافر کہنا تیرا کوئی نئی بات نہیں ایک پرانی رسم قدیم سے چلی آتی ہے قد کُفّرتْ من قبل صحب نبیّنا قا لوا لئامٌ کفرۃٌ و ھُمٌ ھُمٗ اس سے پہلے ہمارے نبی صلعم کے صحابہ کو لوگوں نے کافر ٹھہرایا اور کہا کہ یہ لئیم اور کافر ہیں اور انکی شان جو ہے سو ہے تب من کلام قلت واحفد تائبًا والعفو خلقی ایّھا المتوھم جو کچھ تونے کہا ہے اُس سے توبہ کر اور میری طرف دوڑ اور بخشنا میرا خُلق ہے اے وہموں میں گرفتار ان کنت تتمنّی الوغا فَنُحارِبُ بارز فانّی حاضر متخیّم اگر تو لڑنے کو چاہتا ہے پس ہم لڑیں گے باہر میدان میں آکہ میں حاضر ہوں خیمہ لگائے ہوئے نطقی کسیفٍ قاطع یُردی العدا قولی کعالیۃ القنا او لھذم میرا نطق تلوار کاٹنے والی کے مانند ہے جو دشمنوں کو ہلاک کرتی ہے بات میری نیزہ کی نوک کی طرح ہے یا لہذم کی طرح ہے کم من قلوب قد شققتُ غلافھا کم من صدور قد کلمتُ واکلم بہت دل ہیں جن کے غلاف میں نے پھاڑ دئے