پیش کرکے یہ غلطی دور کر دی اور اسلام میں یہ پہلا اجماع تھا کہ سب نبی فوت ہو چکے ہیں۔ غرضؔ اِس مرثیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض کم تدبر کرنے والے صحابی جن کی درایت اچھی نہیں تھی (جیسے ابو ھریرہ) وہ اپنی غلط فہمی سے عیسیٰ موعود کے آنے کی پیشگوئی پر نظر ڈال کر یہ خیال کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ ہی آجائیں گے جیسا کہ ابتداء میں ابوہریرہ کو بھی یہی دھوکہ لگاہوا تھا اور اکثر باتوں میں ابو ہریرہ بوجہ اپنی سادگی اور کمی درایت کے ایسے دھوکوں میں پڑ جایا کرتا تھا۔ چنانچہ ایک صحابی کے آگ میں پڑ نے کی پیشگوئی میں بھی اس کو یہی دھوکہ لگا تھا اور آیت333 ۱؂ کے ایسے اُلٹے معنی کرتا تھا جس سے سُننے والے کو ہنسی آتی تھی کیونکہ وہ اس آیت سے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ حضرت عیسیٰ کی مَوت سے پہلے سب اُس پر ایمان لے آئیں گے حالانکہ دوسری قراء ت اس آیت میں بجائے قَبْلَ مَوْتِہٖ کے قَبْلَ مَوْتِھِمْ موجود ہے اور یہ عقیدہ کُھلے طور پر قرآن شریف کے مخالف ہے کہ کوئی زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ سب لوگ حضرت عیسیٰ کو قبول کر لیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے:۔ 33َ 33 ۲؂ یعنی اے عیسٰی مَیں تجھے مَوت دُوں گا اور پھر مَوت کے بعد مومنوں کی طرح اپنی طرف تجھے اُٹھاؤں گا اور پھر تمام تہمتوں سے تجھے بَری کروں گا اور پھر قیامت تک تیرے متبعین کو تیرے مخالفوں پر غالب رکھوں گا اب ظاہر ہے کہ اگر قیامت سے پہلے تمام لوگ حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئیں گے تو پھر وہ کون سے مخالف ہیں جو قیامت تک رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک اور مقام میں فرماتا ہے۔ 33 ۳؂ یعنی یہود اور نصاریٰ میں قیامت تک عداوت رہے گی پس ظاہر ہے کہ اگر تمام یہود قیامت سے پہلے ہی حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آویں گے تو قیامت تک عداوت رکھنے والا کون رہے گا۔