ماسوا اس کے ایسا خیال کہ تمام یہودی حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئیں گے اس طور سے بھیؔ بیہودہ اور خلاف عقل ہے کہ یہ اعتقاد واقعات کے برخلاف ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ کے زمانہ کو قریباً دو ۲۰۰۰ہزار برس گذرتا ہے اور کسی پر یہ امر پوشیدہ نہیں کہ اس عرصہ میں کروڑہا یہودی حضرت عیسیٰ سے منکر اور اُن کو گالیاں دینے والے اور کافر ٹھہرانے والے دنیا سے گذر گئے ہیں۔ پھر یہ قول کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے کہ ہر ایک یہودی ان پر ایمان لے آئے گا۔ اس دوہزار برس کی ذرا میزان تو لگاؤ کہ کس قدر یہودی بے ایمانی کی حالت میں مر گئے کیا اُن کی نسبت رضی اللہ عنہم کہہ سکتے ہیں۔
غرض تمام صحابہ کا اجماع حضرت عیسیٰ کی موت پر تھا بلکہ تمام انبیاء کی موت پر اجماع ہو گیا تھا اور یہی پہلا اجماع تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہوا۔ اسی اجماع کی وجہ سے تمام صحابہ حضرت عیسیٰ کی موت کے قائل تھے اور اسی وجہ سے حسّان بن ثابت نے مذکورہ بالا مرثیہ بنایا تھا جس کا ترجمہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں یہ ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تُو تو میری آنکھوں کی پُتلی تھا مَیں تو تیرے مَرنے سے اندھا ہو گیا اب تیرے بعد جو شخص چاہے مرے۔ عیسیٰ ہو یا موسیٰ مجھے تو تیرے ہی مَرنے کا خوف تھا۔ اور درحقیقت صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے۔ اور ان کو کسی طرح یہ بات گوارا نہ تھی کہ عیسیٰ جس کا وجود شرک عظیم کی جڑ قرار دیا گیا ہے زندہ ہو اور آپ فوت ہو جائیں۔ پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت اُن کو یہ معلوم ہوتا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر مع جسم عنصری زندہ بیٹھے ہیں اور اُن کا برگزیدہ نبی فوت ہو گیا تو وہ مارے غم کے مر جاتے کیونکہ ان کو ہر گز اِس بات کی برداشت نہ تھی کہ کوئی اور نبی زندہ ہو اور اُن کا پیارا نبی قبر میں داخل ہو جائے۔ اللّٰہم صلِّ علٰی محمد و آلہٖ واصحابہٖ اجمعین
اور خدا تعالیٰ کے اِس کلام سے کہ 3 ۱ یہمعنی نکالنا کہ حضرت عیسیٰ مع جسم عنصری دوسرے آسمان پر حضرت یحیٰی کے پاس جا بیٹھے کس قدر نافہمی اور نادانی ہے۔
کیا خدائے عزّوجلّ دوسرے آسمان پر بیٹھا ہوا ہے اور کیا قرآن میں رَفع اِلی اللّٰہ کے