جمع کیا اور اتفاؔ ق حسنہ سے اُس دن کُل صحابہ رضی اللہ عنہم مدینہ میں موجود تھے تب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور فرمایا کہ مَیں نے سنا ہے کہ بعض ہمارے دوست ایسا ایسا خیال کرتے ہیں مگر سچ بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور ہمارے لئے یہ کوئی خاص حادثہ نہیں ہے۔ اِس سے پہلے کوئی نبی نہیں گذرا جو فوت نہیں ہوا۔ پھر حضرت ابوبکر نے یہ آیت پڑھی 33 ۱؂ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف انسان رسول تھے خدا تو نہیں تھے۔* سو جیسے پہلے اِس سے سب رسول فوت ہو چکے ہیں آپ بھی فوت ہو گئے۔ تب اِس آیت کو سُن کر تمام صحابہ چشم پُر آب ہو گئے اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا۔ اور اِس آیت نے اُن کے دلوں میں ایسی تاثیر کی کہ گویا اُسی روز نازل ہوئی تھی۔ چنانچہ بعد اس کے حسّان بن ثابت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ مرثیہ بنایا۔ کنت السَّواد لناظری فعمی علیک الناظرٗ مَنْ شَاءَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ یعنی تُو میری آنکھوں کی پُتلی تھا۔ میں تو تیری مَوت سے اندھا ہوگیا۔ اب بعد اس کے جو چاہے مَرے مجھے تو تیرے ہی مَرنے کا خوف تھا۔ اِس شعر میں حسّان بن ثابت نے تمام نبیوں کی موت کی طرف اشارہ کیا ہے گویا وہ کہتا ہے کہ ہمیں اِس کی کیا پروا ہے کہ موسیٰ مرگیا ہو یا عیسیٰ مر گیاہو ہمارا ماتم تو اِس نبی محبوب کیلئے ہے جو آج ہم سے علیحدہ ہو گیا اور آج ہماری آنکھوں سے پوشیدہ ہو گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ اس غلط عقیدہ میں بھی مبتلا تھے کہ گویا حضرت عیسیٰ دوبارہ دنیا میںآئیں گے مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آیت قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ‌ * جو شخص حضرت عیسٰیؑ کو آیت قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ‌ؕ سے باہر رکھتا ہے اُس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ عیسٰیؑ انسان نہیں ہے اور نیز ظاہر ہے کہ اس صورت میں حضرت ابوبکرؓ کا اس آیت سے استدلال صحیح نہیں ٹھہرتا کیونکہ جبکہ حضرت عیسٰیؑ آسمان پر زندہ مع جسم عنصری موجود ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو اِس آیت سے صحابہ رضی اللہ عنہم کو کونسی تسلّی ہو سکتی تھی۔منہ