تو اس کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ مع جسم آسمان پر اُٹھائے جانا۔ مگر دوسروں کے لئے یہ معنی نہیں ہوتے یہ دعویٰ بھی عجیب دعویٰ ہے گویا تمام دنیا کے لئے تو توفّیکے لفظ کے یہ معنی ہیں کہ قبض روح کرنا نہ قبض جسم۔ مگر حضرت عیسیٰ کے لئے خاص طور پر یہ معنی ہیں کہ مع جسم آسمان پر اُٹھا لینا۔ یہ معنی خوب ہیں جن سے ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حصہ نہیں ملا۔ اور تمام مخلوقات میں سے حضرت عیسیٰ کیلئے ہی یہ معنی مخصوص ہیں۔ اور اس بات پر زور دینا کہ اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ دوبارہ دنیا میں آئیں گے یہ عجیب افتراء ہے جو سمجھ نہیں آتا۔ اگر اتفاق سے مراد صحابہ کا اتفاق ہے تو یہ اُن پر تہمت ہے اُن کی تو بَلا کو بھی اِس مستحدث عقیدہ کی خبر نہیں تھی کہ حضرت عیسیٰ دوبارہ دنیا میں آجائیں گے اور اگر اُن کا یہ عقیدہ ہوتا تو اس آیت کے مضمون پر رورو کر کیوں اتفاق کیا جاتا ۔کہ 33 ۱ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک انسان رسول تھے خدا تو نہیں تھے اور اُن سے پہلے سب رسول دنیا سے گذر گئے ہیں۔ پس اگر حضرت عیسیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک دنیا سے نہیں گذرے تھے اور اُن کو اُس وقت تک ملک الموت چُھو نہیں گیا تھا تو اس آیت کے سننے کے بعد کیونکر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس عقیدہ سے رجوع کر لیا کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ یہ آیت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اُس دن تمام صحابہ کو مسجد نبوی میں پڑھ کر سنائی تھی جس دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی اور وہ پیر کا دن تھا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابھی دفن نہیں کئے گئے تھے اور عائشہ صدیقہ کے گھر میں آپ کی میّت مطہر تھی کہ شدّتِ دردِ فراق کی وجہ سے بعض صحابہ کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت میں فوت نہیں ہوئے بلکہ غائب ہو گئے ہیں اور پھر دنیا میں آئیں گے۔ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے اِس فتنہ کو خطرناک سمجھ کر اُسی وقت تمام صحابہ کو