میںؔ یہ باتیں کسی قیاس اور ظن سے نہیں کہتا بلکہ میں خدا تعالیٰ سے وحی پاکر کہتا ہوں اور میں اُس کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اُسی نے مجھے یہ اطلاع دی ہے۔ وقت میری گواہی دیتا ہے۔ خدا کے نشان میری گواہی دیتے ہیں۔ ماسوا اس کے جبکہ قرآن شریف سے قطعی طورپر حضرت عیسیٰ کا وفات پا جانا ثابت ہے تو پھر اُن کے دوبارہ آنے کا خیال بد یہی البطلان ہے۔ کیونکہ جو شخص آسمان پر مع جسم عنصری زندہ موجود ہی نہیں وہ کیونکر زمین پر دوبارہ آسکتا ہے۔ اگر کہو کہ کن آیات قرآن شریف سے قطعی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے تو میں نمونہ کے طور پر اس آیت کی طرف آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں جو قرآن شریف میں ہے یعنی یہ کہ 3 ۱؂ الخ۔ اِس جگہ اگر توفّی کے معنی مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھانا تجویز کیا جائے تو یہ معنی تو بدیہی البطلان ہیں کیونکہ قرآن شریف کی انہی آیات سے ظاہر ہے کہ یہ سوال حضرت عیسیٰ سے قیامت کے دن ہوگا۔ پس اِس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ وہ موت سے پہلے اس رفع جسمانی کی حالت میں ہی خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو جائیں گے اور پھر کبھی نہیں مریں گے کیونکہ قیامت کے بعد مَوت نہیں اور ایسا خیال ببداہت باطل ہے۔ علاوہ اس کے قیامت کے دن یہ جواب اُن کا کہ اُس روز سے کہ میں مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھایا گیا مجھے معلوم نہیں کہ میرے بعد میری اُمّت کا کیا حال ہوا۔ یہ اس عقیدہ کی رُو سے صریح دروغ بے فروغ ٹھہرتا ہے جبکہ یہ تجویز کیا جائے کہ وہ قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میںآئیں گے۔ کیونکہ جو شخص دوبارہ دنیا میں آوے اور اپنی اُمّت کی مُشرکانہ حالت کو دیکھ لے بلکہ اُن سے لڑائیاں کرے اور اُن کی صلیب توڑے اور اُن کے خنزیر کو قتل کرے وہ کیونکر قیامت کے روز کہہ سکتا ہے کہ مجھے اپنی اُمّت کی کچھ بھی خبر نہیں۔ اور خود یہ دعوےٰ کہ توفّی کا لفظ جب حضرت عیسیٰ کی نسبت قرآن شریف میں آتا ہے