اورؔ آپ کی پیروی سے نہیں بلکہ براہ راست مقامِ نبوّت حاصل رکھتا ہوگا اور اس کی عملی حالتیں شریعتِ محمدیہ کے مخالف ہونگی اورقرآن شریف کی صریح مخالفت کرکے لوگوں کو فتنہ میں ڈالے گا اور اسلام کی ہتک عزّت کا موجب ہوگا۔ یقیناًسمجھو کہ خدا ہر گز ایسا نہیں کرے گا۔*بے شک حدیثوں میں مسیح موعود کے ساتھ نبی کا نام موجود ہے مگر ساتھ اُس کے اُمّتی کا نام بھی تو موجود ہے۔ اور اگر موجود بھی نہ ہوتا تو مفاسد مذکورہ بالا پر نظر کرکے ماننا پڑتا کہ ہر گز ایسا ہو نہیں سکتا کہ کوئی مستقل نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آوے۔ کیونکہ ایسے شخص کا آنا صریح طور پر ختم نبوت کے منافی ہے۔ اور یہ تاویل کہ پھر اُس کو اُمّتی بنایا جائے گا اور وہی نو مسلم نبی مسیح موعود کہلائے گا۔یہ طریق عزّتِ اسلام سے بہت بعید ہے۔ جس حالت میں حدیثوں سے ثابت ہے کہ اِسی اُمّت میں سے یہود پیدا ہوں گے تو افسوس کی بات ہے کہ یہود تو پیدا ہوں اِس اُمّت میں سے اور مسیح باہر سے آوے کیا ایک خدا ترس کیلئے یہ ایک مشکل بات ہے؟ کہ جیسا کہ اس کی عقل اس بات پر تسلّی پکڑتی ہے کہ اس اُمّت میں بعض لوگ ایسے پیدا ہوں گے جن کا نام یہود رکھا جائے گا ایسا ہی اِسی اُمّت میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کا نام عیسیٰ اور مسیح موعود رکھا جائے گا۔ کیا ضرورت ہے کہ حضرت عیسیٰ کو آسمان سے اُتارا جائے اور اس کی مستقل نبوّت کا جامہ اُتار کر اُمّتی بنایا جائے۔ اگر کہو کہ یہ کارروائی بطور سزا کے ہوگی کیونکہ اُن کی اُمّت نے اُن کو خدا بنایا تھا تو یہ جواب بھی بیہودہ ہے کیونکہ اس میں حضرت عیسیٰ کا کیا قصور ہے۔
یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ کا دوبارہ دنیا میں آنا اجماعی عقیدہ ہے یہ سراسر افترا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع صرف اِس آیت پر ہوا تھا کہ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُؕ ۔۱ پھر بعد ان کے اُمّت میں طرح طرح کے فرقے پیدا ہو گئے چنانچہ معتزلہ اب تک حضرت عیسیٰ کی وفات کے قائل ہیں۔ اور بعض اکابر صوفیہ بھی ان کی موت کے قائل ہیں اور مسیح موعود کے ظہور سے پہلے اگر اُمّت میں سے کسی نے یہ خیال بھی کیا کہ حضرت عیسیٰ دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو ان پر کوئی گناہ نہیں صرف اجتہادی خطا ہے جو اسرائیلی نبیوں سے بھی بعض پیشگوئیوں کے سمجھنے میں ہوتی رہی ہے۔منہ