لوگوؔ ں کی غلطی ثابت ہوتی ہے جو خواہ نخواہ حضرت عیسیٰ کو دوبارہ دنیا میں لاتے ہیں اور وہ حقیقت جو الیاس نبی کے دوبارہ آنے کی تھی جو خود حضرت عیسیٰ کے بیان سے کھل گئی۔* اس سے کچھ عبرت نہیں پکڑتے بلکہ جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ لگتا ہے اُس کا اُنہیں حدیثوں میں یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی بھی ہوگا اور اُمّتی بھی مگر کیا مریم کا بیٹا اُمّتی ہو سکتا ہے؟ کون ثابت کرے گا کہ اُس نے براہِ راست نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے درجۂ نبوت پایا تھا؟ ھٰذَا ھُوَ الْحَقُّ ط وَاِنْ تَوَلَّوا فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَ کُمْ وَنِسَآءَ نَا وَنِسَآءَ کُمْ وَاَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبتَھِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَۃَ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ اور ہزار کوشش کی جائے اور تاویل کی جائے یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کیلئے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسیا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف مُنہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا اور شراب پئے گا اور سؤر کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے حلال و حرام کی کچھ پرواہ نہیں رکھے گا۔ کیا کوئی عقل تجویز کر سکتی ہے کہ اسلام کے لئے یہ مصیبت کا دِن بھی باقی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی بھی آئے گا کہ جو مستقل نبوت کی وجہ سے آپ کی ختم نبوت کی مُہر کوتوڑ دے گا اور آپ کی فضیلت خاتم الانبیاء ہونے کی چھین لے گا۔
حضرت عیسیٰ کے دوبارہ آنے کا مسئلہ عیسائیوں نے محض اپنے فائدہ کے لئے گھڑا تھا کیونکہ اُن کی پہلی آمد میں اُن کی خدائی کا کوئی نشان ظاہر نہ ہوا۔ ہر دفعہ مار کھاتے رہے۔ کمزوری دکھلاتے رہے۔ پس یہ عقیدہ پیش کیا گیا کہ آمد ثانی میں وہ خدائی کا جلوہ دکھائیں گے اور پہلی کسریں نکالیں گے تا اِس طرح پر پہلی آمد کے حالات کی پردہ پوشی کی جائے مگر اب وہ زمانہ آتا جاتا ہے کہ خود عیسائی ایسے عقائد سے منحرف ہوتے جاتے ہیں۔ مَیں یقین کرتا ہوں کہ جب اُن کی عقلیں ترقی کریں گی تو وہ بہت آسانی سے اِس عقیدے کو چھوڑ دیں گے۔ اور جیسا کہ بچہ پورا تیار ہو کر پھر رحم میں نہیں رہ سکتا اسی طرح وہ بھی مشیمۂ حجاب اور جہل سے باہر آجائیں گے۔ منہ