پھر تیسری قسم کے ملہم اور خواب بین وہ لوگ ہیں جن کے خوابوں اور الہاموں کی حالت اُس جسمانی نظّارہ سے مشابہ ہے جب کہ ایک شخص اندھیری اور شَدِیْدُ الْبَرْد رات میںؔ نہ صرف آگ کی کامل روشنی ہی پاتا ہے اور اُس میں چلتا ہے بلکہ اُس کے گرم حلقہ میں داخل ہو کر بکلّی سردی کے ضرر سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اِس مرتبہ تک وہ لوگ پہنچتے ہیں جو شہوات نفسانیہ کا چولہ آتشِ محبتِ الٰہی میں جلادیتے ہیں اور خدا کے لئے تلخی کی زندگی اختیار کر لیتے ہیں وہ دیکھتے ہیں جو آگے موت ہے اور دوڑ کر اُس موت کو اپنے لئے پسند کر لیتے ہیں وہ ہر ایک درد کو خدا کی راہ میں قبول کرتے ہیں اور خدا کیلئے اپنے نفس کے دشمن ہو کر اور اس کے بر خلاف قدم رکھ کر ایسی طاقت ایمانی دکھلاتے ہیں کہ فرشتے بھی اُن کے اس ایمان سے حیرت اور تعجب میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ روحانی پہلوان ہوتے ہیں اور شیطان کے تمام حملے اُن کی روحانی قوت کے آگے ہیچ ٹھہرتے ہیں وہ سچے وفادار اور صادق مرد ہوتے ہیں کہ نہ دنیا کے لذّات کے نظّارے انہیں گمراہ کر سکتے ہیں اور نہ اولاد کی محبت اور نہ بیوی کا تعلق اُن کو اپنے محبوب حقیقی سے برگشتہ کر سکتا ہے۔ غرض کوئی تلخی اُن کو ڈرا نہیں سکتی اور کوئی نفسانی لذّت اُن کو خدا سے روک نہیں سکتی اور کوئی تعلق خدا کے تعلق میں رخنہ انداز نہیں ہو سکتا۔
یہ تین روحانی مراتب کی حالتیں ہیں جن میں سے پہلی حالت علم الیقین کے نام سے موسوم ہے اور دوسری حالت عین الیقین کے نام سے نامزد ہے اور تیسری مبارک اور کامل حالت حق الیقین کہلاتی ہے۔ اور انسانی معرفت کامل نہیں ہو سکتی اور نہ کدورتوں سے پاک ہو سکتی ہے جب تک حق الیقین تک نہیں پہنچتی۔ کیونکہ حق الیقین کی حالت صرف مشاہدات پر موقوف نہیں بلکہ یہ بطور حال کے انسان کے دل پر وارد ہو جاتی ہے اور انسان محبتِ الٰہی کی بھڑکتی ہوئی آگ میں پڑ کر اپنے نفسانی وجود سے بالکل نیست ہو جاتا ہے اور اس مرتبہ پر انسانی معرفت پہنچ کر قال سے حال کی طرف انتقال کرتی ہے اور سفلی زندگی بالکل جل کر خاک ہوجاتی ہے اور ایسا انسان خدا تعالیٰ کی گود میں بیٹھ جاتا ہے اور جیسا کہ ایک لوہا آگ میں پڑ کر بالکل