درجہ کسل اور سُستی ان میں پائی جاتی ہے اور دنیا کے ہموم و غموم میں دن رات غرق رہتے ہیں اور دانستہ جھوٹ کی حمایت کرتے اور سچ کو چھوڑتے ہیں اور ہر ایک قدم میں خیانت پائی جاتی ہے اور بعض میں اس سے بڑھ کر یہ عادت بھی پائی گئی ہے کہ وہ فسق و فجور سے بھی پرہیز نہیں کرتے اور دنیا کمانے کے لئے ہر ایک ناجائز کام کر لیتے ہیں اور بعض کی اخلاقی حالت بھیؔ نہایت خراب ہوتی ہے اور حسد اور بخل اور عُجب اور تکبّر اور غرور کے پُتلے ہوتے ہیں اور ہر ایک کمینگی کے کام اُن سے صادر ہوتے ہیں اور طرح طرح کی قابلِ شرم خباثتیں اُن میں پائی جاتی ہیں۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ بعض اُن میں ایسے ہیں کہ ہمیشہ بد خوابیں ہی اُن کو آتی ہیں اور وہ سچی بھی ہو جاتی ہیں۔ گویا اُن کے دماغ کی بناوٹ صرف بد اور منحوس خوابوں کیلئے مخلوق ہے نہ اپنے لئے کوئی بہتری کے خواب دیکھ سکتے ہیں جس سے اُن کی دنیا درست ہو اور اُن کی مُرادیں حاصل ہوں اور نہ اوروں کے لئے کوئی بشارت کی خواب دیکھتے ہیں۔ اِن لوگوں کے خوابوں کی حالت اقسامِ ثلاثہ میں سے اُس جسمانی نظارہ سے مشابہ ہے جب کہ ایک شخص دور سے صرف ایک دھواں آگ کا دیکھتا ہے مگر آگ کی روشنی نہیں دیکھتا اور نہ آگ کی گرمی محسوس کرتا ہے کیونکہ یہ لوگ خدا سے بالکل بے تعلق ہیں اور روحانی اُمور سے صرف ایک دھواں اُن کی قسمت میں ہے جس سے کوئی روشنی حاصل نہیں ہوتی۔
پھر دوسری قسم کے خواب بین یا مُلہم وہ لوگ ہیں جن کو خدا تعالیٰ سے کسی قدر تعلق ہے مگر کامل تعلق نہیں ان لوگوں کی خوابوں یا الہاموں کی حالت اُس جسمانی نظارہ سے مشابہ ہے جبکہ ایک شخص اندھیری رات اور شَدِیْدُ البَرد رات میں دور سے ایک آگ کی روشنی دیکھتا ہے۔ اس دیکھنے سے اتنا فائدہ تو اُسے حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ ایسی راہ پر چلنے سے پرہیز کرتا ہے جس میں بہت سے گڑھے اور کانٹے اور پتھر اور سانپ اور درندے ہیں مگر اس قدر روشنی اس کو سردی اور ہلاکت سے بچا نہیں سکتی۔ پس اگر وہ آگ کے گرم حلقہ تک پہنچ نہ سکے تو وہ بھی ایسا ہی ہلاک ہو جاتا ہے جیسا کہ اندھیرے میں چلنے والا ہلاک ہو جاتا ہے۔