آگ کی رنگ میں آجاتا ہے اور آگ کی صفات اُس سے ظاہر ہونی شروع ہو جاتی ہیں ایسا ہی اس درجہ کا آدمی صفاتِ الٰہیہ سے ظلّی طور پر متّصف ہو جاتا ہے۔ اور اس قدر طبعًا مرضاؔ ت الٰہیہ میں فنا ہو جاتا ہے کہ خدا میں ہو کر بولتا ہے اور خدا میں ہو کر دیکھتا ہے اور خدا میں ہو کر سُنتا ہے اور خدا میں ہو کر چلتا ہے گویا اُس کے جُبہّ میں خدا ہی ہوتا ہے۔ اور انسانیت اُس کی تجلّیات الٰہیہ کے نیچے مغلوب ہو جاتی ہے چونکہ یہ مضمون نازک ہے اور عام فہم نہیں اس لئے ہم اِس کو اِسی جگہ چھوڑتے ہیں۔
اور ایک دوسرے پیرایہ میں ہم اس مرتبہ ثالثہ کی جو اعلیٰ اور اکمل مرتبہ ہے اِس طرح پر تصویر کھینچتے ہیں کہ وہ وحی کامل جو اقسام ثلاثہ میں سے تیسری قسم کی وحی ہے جو کامل فردپر نازل ہوتی ہے اُس کی یہ مثال ہے کہ جیسے سورج کی دھوپ اور شعاع ایک مصفّا آئینہ پر پڑتی ہے جو عین اس کے مقابل پر پڑا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اگرچہ سورج کی دھوپ ایک ہی چیز ہے لیکن بوجہ اختلاف مظاہر کے اس کے ظہور کی کیفیت میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ پس جب سُورج کی شعاع زمین کے کسی ایسے کثیف حصّہ میں پڑتی ہے جس کی سطح پر ایک شفاف اور مصفّا پانی موجود نہیں بلکہ سیاہ اور تاریک خاک ہے اور سطح بھی مستوی نہیں تب شعاع نہایت کمزور ہوتی ہے خاص کر اُس حالت میں جبکہ سورج اور زمین میں کوئی بادل بھی حائل ہو۔ لیکن جب وہی شعاع جس کے آگے کوئی بادل حائل نہیں ایک شفاف پانی پر پڑتی ہے جو ایک مصفّا آئینہ کی طرح چمکتا ہے تب وہی شعاع ایک سے دہ چند ہو کر ظاہر ہوتی ہے جسے آنکھ بھی برداشت نہیں کر سکتی۔
پس اسی طرح جب نفس تزکیہ یافتہ پر جو تمام کدورتوں سے پاک ہو جاتا ہے وحی نازل ہوتی ہے تو اُس کا نُور فوق العادت نمایاں ہوتا ہے۔ اور اُس نفس پر صفاتِ الٰہیہ کا انعکاس پورے طور پر ہو جاتا ہے اور پورے طور پر چہرہ حضرت احدیّت ظاہر ہوتا ہے۔ اِس تحقیق سے ظاہر ہے کہ جیسے آفتاب جب نکلتا ہے تو ہر ایک پاک ناپاک جگہ پر اُس کی