کامل الایمان اور کامل المحبّت لوگوں کی نسبت اِس رسالہ میں بیان کیا گیا ہے اِن میں سے اکثر اُمور میں دوسرے لوگ بھی شریک ہو جاتے ہیں جیسا کہ دوسروں کو بھی خوابیں آتی ہیں۔ کشف بھی ہوتے ہیں۔ الہام بھی پاتے ہیں تو مابہ الامتیاز کیا ہوا۔
اِن وساوس کا جواب اگرچہ ہم بار ہا دے چکے ہیں مگر پھر ہم کہتے ہیں کہ مقبولوں اور غیر مقبولوں میں فرق تو بہت ہے جو کسی قدر اس رسالہ میں بھی تحریر ہو چکا ہے لیکن آسمانی نشانوں کےؔ رُو سے ایک عظیم الشان یہ فرق ہے کہ خدا کے مقبول بندے جو انوارِ سُبحانی میں غرق کئے جاتے اور آتشِ محبت سے اُن کی ساری نفسانیت جلائی جاتی ہے وہ اپنی ہر شان میں کیا باعتبار کمیّت اور کیا باعتبارکیفیت غیروں پر غالب ہوتے ہیں اور غیر معمولی طور پر خدا کی تائید اور نصرت کے نشان اِس کثرت سے اُن کیلئے ظاہر ہوتے ہیں کہ دنیا میں کسی کو مجال نہیں ہوتی کہ اُن کی نظیر پیش کر سکے کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں خدا جو مخفی ہے اُس کا چہرہ دِکھلانے کیلئے وہ کامل مظہر ہوتے ہیں وہ دنیا کے آگے پوشیدہ خدا کو دکھلاتے ہیں اور خدا اُنہیں دکھلاتا ہے۔
اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ آسمانی نشانوں سے حصّہ لینے والے تین قِسم کے آدمی ہوتے ہیں۔ اوّل وہ جو کوئی ہنر اپنے اندر نہیں رکھتے اور کوئی تعلق خدا تعالیٰ سے اُن کا نہیں ہوتا صرف دماغی مناسبت کی وجہ سے اُن کو بعض سچی خوابیں آجاتی ہیں اور سچے کشف ظاہر ہو جاتے ہیں جن میں کوئی مقبولیت اور محبوبیّت کے آثار ظاہرنہیں ہوتے اور اُن سے کوئی فائدہ اُن کی ذات کو نہیں ہوتا اور ہزاروں شریر اور بد چلن اور فاسق وفاجر ایسی بد بُودار خوابوں اور الہاموں میں اُن کے شریک ہوتے ہیں اور اکثر دیکھا جاتا ہے کہ باوجود ان خوابوں اور کشفوں کے اُن کا چال چلن قابلِ تعریف نہیں ہوتا کم سے کم یہ کہ اُن کی ایمانی حالت نہایت کمزور ہوتی ہے اِس قدر کہ ایک سچی گواہی بھی نہیں دے سکتے اور جس قدر دنیا سے ڈرتے ہیں خدا سے نہیں ڈرتے اور شریر آدمیوں سے قطع تعلق نہیں کر سکتے اور کوئی ایسی سچی گواہی نہیں دے سکتے جس سے بڑے آدمی کے ناراض ہو جانے کا اندیشہ ہو اور دینی اُمور میں نہایت