کے ذریعہ سے وہ اپنا چہرہ دکھلاتا ہے۔ خدا کے نشان تبھی ظاہر ہوتے ہیں جب اُس کے مقبول ستائے جاتے ہیں۔ اور جب حد سے زیادہ اُن کو دُکھ دیا جاتا ہے تو سمجھو کہ خدا کانشان نزدیک ہے بلکہ دروازہ پر۔ کیونکہ یہ وہ قوم ہے کہ کوئی اپنے پیارے بیٹے سے ایسی محبت نہیں کرے گا جیسا کہ خدا اُن لوگوں سے کرتا ہے جو دل و جان سے اُس کے ہو جاتے ہیں وہ اُن کیلئے عجائب کام دِکھلاتا ہے اور ایسی اپنی قُوّت دِکھلاتا ہے کہ جیسا ایک سوتا ہوا شیر جاگ اُٹھتاؔ ہے خدا مخفی ہے اور اُس کے ظاہر کرنے والے یہی لوگ ہیں۔ وہ ہزاروں پَردوں کے اندر ہے اوراس کا چہرہ دِکھلانے والی یہی قوم ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ خیال کہ مقبولین کی ہر ایک دُعا قبول ہوجاتی ہے یہ سراسر غلط ہے بلکہ حق بات یہ ہے کہ مقبولین کے ساتھ خدا تعالیٰ کا دوستانہ معاملہ ہے کبھی وہ اُن کی دُعائیں قبول کر لیتا ہے اور کبھی وہ اپنی مشیت اُن سے منوانا چاہتا ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ دوستی میں ایسا ہی ہوتا ہے بعض وقت ایک دوست اپنے دوست کی بات کو مانتا ہے اور اُس کی مرضی کے موافق کام کرتا ہے اور پھر دوسرا وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اپنی بات اُس سے منوانا چاہتا ہے اِسی کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ ایک جگہ قرآن شریف میں مومنوں کی استجابتِ دعا کا وعدہ کرتا ہے اور فرماتا ہے 3 ۱؂ یعنی تم مجھ سے دُعا کرو مَیں تمہاری دُعا قبول کروں گا۔ اور دوسری جگہ اپنی نازل کردہ قضا و قدر پر خوش اور راضی رہنے کی تعلیم کرتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔ 333 3 3 ۔۲؂ پس اِن دونوں آیتوں کو ایک جگہ پڑھنے سے صاف معلوم ہو جائے گا کہ دعاؤں کے بارے میں کیا سُنّت اللہ ہے اور ربّ اور عَبد کا کیا باہمی تعلّق ہے۔ مَیں پھر مکرّر لکھنا مناسب سمجھتا ہوں کہ کوئی نادان یہ خیال نہ کرے کہ جو کچھ تیسرے درجہ کے