اِسی طرح اُن کی دعا اور اُن کی توجہ بھی معمولی دعاؤں اور توجہات کی طرح نہیں ہوتی بلکہ اپنے اندر ایک شدید اثر رکھتی ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ اگر قضاء مبرم اور اٹل نہ ہو اور اُن کی توجہ اپنی تمام شرائط کے ساتھ اُس بَلا کے دور کرنے کے لئے مصروف ہو جائے تو خدا تعالیٰ اُس بَلا کو دور کر دیتا ہے گو ایک فرد واحد یا چند کَس پر وہ بَلا نازل ہو یا ایک مُلک پر وہ بَلا نازل ہو یا ایک بادشاہ وقت پر وہ بلا نازل ہو۔ اس میں اصل یہ ہے کہ وہ اپنے وجودؔ سے فانی ہوتے ہیں اس لئے اکثر اوقات اُن کے ارادہ کا خدا تعالیٰ کے ارادہ سے توارد ہو جاتا ہے۔ پس جب شدّت سے اُن کی توجہ کسی بلا کے دور کرنے کے لئے مبذول ہو جاتی ہے اور جیسا کہ دردِ دل کے ساتھ اقبال علی اللہ چاہیئے میسر آجاتا ہے تو سُنّت الٰہیہ اسی طرح پر واقع ہے کہ خدا اُن کی سنتا ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ خدا اُن کی دعا کو ردّ نہیں کرتا۔ اور کبھی اُن کی عبودیت ثابت کرنے کے لئے دعا سُنی نہیں جاتی تا جاہلوں کی نظر میں خدا کے شریک نہ ٹھہر جائیں اور اگر ایسا اتفاق ہو کہ بَلاوارد ہو جائے جس سے مَوت کے آثار ظاہر ہو جائیں تو اکثر عادت اللہ یہی ہے کہ اُس بَلا میں تاخیر نہیں ہوتی اور ایسے وقت میں خدا کے مقبولوں کا ادب یہی ہے کہ دعا کو ترک کر دیں اور صبر سے کام لیں۔ بہتر وقت دعا کا یہی ہے کہ ایسے وقت میں دُعا ہو جب اسباب یاس اور نومیدی بکلّی ظاہر نہ ہوں اور ایسی علامات نمودار نہ ہوں جن سے صاف طور پر نظر آتا ہو کہ اب بَلا دروازہ پر ہے اور ایک طور پر اس کا نزول ہو چکا ہے کیونکہ اکثر سُنّت یہی ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے ایک عذاب کے نازل کرنے میں اپنے ارادہ کو ظاہر کر دیا تو وہ اپنے ارادہ کو واپس نہیں لیتا۔ یہ بالکل سچ ہے کہ مقبولین کی اکثر دعائیں منظور ہوتی ہیں بلکہ بڑا معجزہ اُن کا استجابتِ دعا ہی ہے جب اُن کے دلوں میں کسی مصیبت کے وقت شدّت سے بیقراری ہوتی ہے اور اس شدید بیقراری کی حالت میں وہ اپنے خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں تو خدا اُن کی سنتا ہے اور اُس وقت اُن کا ہاتھ گویا خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔ خدا ایک مخفی خزانہ کی طرح ہے کامل مقبولوں