اِسی طرح اُس کی پیشانی کو ایک نُور عطا کیاجاتا ہے جو بجز عُشّاقِ الٰہی کے اور کسی کو نہیں دیا جاتا۔ اور بعض خاص وقتوں میں وہ نُور ایسا چمکتا ہے کہ ایک کافر بھی اُس کو محسوس کر سکتا ہے بالخصوص ایسی حالت میں جبکہ وہ لوگ ستائے جاتے اورنصرت الٰہی حاصل کرنے کیلئے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ پس وہ اقبال علی اللہ کا وقت ان کیلئے ایک خاص وقت ہوتا ہے اور خدا کا نور ان کی پیشانی میں اپنا جلوہ ظاہر کرتا ہے۔
ایسا ہی اُنکے ہاتھوں میں اور پیروں میں اور تمام بدن میں ایک برکت دیجاتی ہے جس کی وجہ سے اُنؔ کا پہنا ہوا کپڑا بھی متبرّک ہو جاتا ہے۔ اور اکثر اوقات کسی شخص کو چُھونا یا اُس کو ہاتھ لگانا۔ اُس کے امراض روحانی یا جسمانی کے ازالہ کا موجب ٹھہرتا ہے۔
اِسی طرح اُن کے رہنے کے مکانات میں بھی خدائے عزّوجلّ ایک برکت رکھ دیتا ہے وہ مکان بلاؤں سے محفوظ رہتا ہے خدا کے فرشتے اُس کی حفاظت کرتے ہیں۔
اِسی طرح اُن کے شہریا گاؤں میں بھی ایک برکت اور خصوصیت دی جاتی ہے۔ اِسی طرح اُس خاک کو بھی کچھ برکت دی جاتی ہے جس پراُن کا قدم پڑتا ہے۔
اِسی طرح اِس درجہ کے لوگوں کی تمام خواہشیں بھی اکثر اوقات پیشگوئی کا رنگ پیدا کر لیتی ہیں یعنی جب کسی چیز کے کھانے یا پینے یا پہننے یا دیکھنے کی بشدّت اُن کے اندر خواہش پیدا ہوتی ہے تو وہ خواہش ہی پیشگوئی کی صورت پکڑ لیتی ہے اور جب قبل از وقت اضطرار کے ساتھ اُن کے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے تو وہ چیز میسر آجاتی ہے۔
اِسی طرح اُن کی رضامندی اور ناراضگی بھی پیشگوئی کا رنگ اپنے اندر رکھتی ہے پس جِس شخص پر وہ شدّت سے راضی اور خوش ہوتے ہیں اس کے آئندہ اقبال کے لئے یہ بشارت ہوتی ہے اور جس پر وہ بشدّت ناراض ہوتے ہیں اُس کے آئندہ ادبار اور تباہی پر دلیل ہوتی ہے کیونکہ بباعث فنافی اللہ ہونے کے وہ سرائے حق میں ہوتے ہیں اور اُن کی رضا اور غضب خدا کا رضا اور غضب ہوتا ہے اور نفس کی تحریک سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے یہ حالات اُن میں پیدا ہوتے ہیں۔