ہوتی ہیں اور بعض پیشگوئیاں اُس کے اپنے نفس کے متعلق ہوتی ہیں اور بعض اپنی اولاد کے متعلق اور بعض اُس کے دوستوں کے متعلق اور بعض اُس کے دُشمنوں کے متعلق اور بعض عام طور پر تمام دنیا کیلئے اور بعض اُس کی بیویوں اور خویشوں کے متعلق ہوتی ہیں اور وہ امور اُسپر ظاہر ہوتے ہیں جو دوسروں پر ظاہر نہیں ہوتے اور وہ غیب کے دروازے اُس کی پیشگوئیوں پر کھولے جاتے ہیں جو دوسروں پر نہیں کھولے جاتے خدا کا کلام اُس پر اُسی طرح نازل ہوتا ہے جیسا کہ خدا کے پاک نبیوں اور رسولوں پر نازل ہوتا ہے اوروہ ظن سے پاک اور یقینی ہوتا ہے۔ یہ شرف تو اس کی زبان کو دیا جاتا ہے کہ کیا باعتبار کمیّت اور کیا باعتبار کیفیت ایسا بے مثل کلام اس کی زبان پر جاری کیا جاتا ہے کہ دنیا اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور اُس کی آنکھ کو کشفی قوّت عطا کی جاتی ہے جس سے وہ ؔ مخفی درمخفی خبروں کو دیکھ لیتا ہے اور بسا اوقات لکھی ہوئی تحریریں اُس کی نظر کے سامنے پیش کی جاتی ہیں اور مُردوں سے زندوں کی طرح ملاقات کر لیتا ہے اور بسا اوقات ہزاروں کوس کی چیزیں اس کی نظر کے سامنے ایسی آجاتی ہیں گویاوہ پَیروں کے نیچے پڑی ہیں۔
ایسا ہی اُس کے کان کو بھی مغیبات کے سُننے کی قوت دی جاتی ہے اور اکثر اوقات وہ فرشتوں کی آواز کو سن لیتا ہے اور بیقراریوں کے وقت ان کی آواز سے تسلّی پاتا ہے اور عجیب تر یہ کہ بعض اوقات جمادات اور نباتات اور حیوانات کی آواز بھی اُس کو پہنچ جاتی ہے۔ فلسفی کو مُنکرحنّانہ است۔ از حواسِ انبیا بیگانہ است اِسی طرح اُس کی ناک کو بھی غیبی خوشبو سونگھنے کی ایک قوت دی جاتی ہے۔ اور بسا اوقات وہ بشارت کے اُمور کو سُونگھ لیتا ہے اور مکروہات کی بدبو اُس کو آجاتی ہے۔ علیٰ ھٰذا القیاس اس کے دل کو قوتِ فراست عطا کی جاتی ہے اور بہت سی باتیں اس کے دل میں پڑجاتی ہیں اور وہ صحیح ہوتی ہیں۔ علیٰ ھٰذا القیاس شیطان اُسپر تصرّف کرنے سے محروم ہو جاتا ہے کیونکہ اُس میں شیطان کا کوئی حصہ نہیں رہتا اور بباعث نہایت درجہ فنافی اللہ ہونے کے اُس کی زبان ہر وقت خدا کی زبان ہوتی ہے اور اُس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور اگرچہ اُس کو خاص طور پر الہام بھی نہ ہو تب بھی جو کچھ اُس کی زبان پر جاری ہوتا ہے وہ اُس کی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ نفسانی ہستی اُس کی بکلّی جل جاتی ہے اور سفلی ہستی پر ایک موت طاری ہو کر ایک نئی اور پاک زندگی اُس کو ملتی ہے جس پر ہر وقت انوارِ الٰہیہ منعکس ہوتے رہتے ہیں۔