نشانوں اور ہر ایک قسم کی رہنمائی کے کیوں اُس پر حجت پوری نہیں ہوئی یہ بحث محض فضول اورفرضی بکواس ہے کہ جس پر حجت پوری نہیں ہوئی وہ باوجود اس کے کہ اُس نے اسلام پر اطلاع پائی انکار کی حالت میں نجات پا جائے گا بلکہ ایسے تذکرہ میں خدا تعالیٰ کی ہتک ہے کیونکہ جس قادر توانا نے اپنے رسول کو بھیجا اُس کی اس میں کسر شان ہے اور نیز تخلف وعدہ لازم آتا ہے کہ باوجود اس کے کہ اُس نے یہ وعدہ بھی کیا کہ میں اپنی حجت پوری کروں گا۔ پھرؔ بھی وہ مکذّبین پر اپنی حجت پوری نہیں کر سکا اور اُنہوں نے اُس کے رسول کی تکذیب بھی کی اورپھر نجات بھی پا گئے اور ہم جب خدا تعالیٰ کے نشانوں کو دیکھتے ہیں جو اُس نے دین اسلام کے لئے ظاہر کئے اورپھر ہم دلائل عقلیہ اور نقلیہ کو دیکھتے اور ہزارہا خوبیاں اسلام میں پاتے ہیں جو غیر قوموں کے مذاہب میں نہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف ترقی کرنے کا دروازہ محض اسلام میں ہی کھلا دیکھتے ہیں اور دوسرے مذاہب کو ایسی حالت میں پاتے ہیں کہ وہ یا تو مخلوق پرستی میں گرفتار ہیں اور یا خدا تعالیٰ کو خالق الکل اور مبدء الکل اور سرچشمہ کل فیوض کا نہیں مانتے تو ہمیں ایسے لوگوں پر افسوس آتا ہے جو ان بیہودہ باتوں کو دنیا میں پھیلاتے ہیں کہ جو شخص اسلام پر اطلاع تو رکھتا ہو مگر اس پر اتمام حجت نہ ہو وہ نجات پائے گا یہ ظاہر ہے کہ صحیح واقعات کو نہ ماننا گو عمداً نہ ہو تب بھی وہ نقصان رساں ہوتا ہے۔ مثلاً طبیبوں نے یہ اشتہار دیا ہے کہ آتشک زدہ عورت کے نزدیک مت جاؤ اور ایک شخص نے ایسی عورت سے صحبت کی اب اُس کا یہ کہنا بے فائدہ ہوگا کہ میں طبیبوں کے اس اشتہار سے بے خبر تھا مجھے کیوں آتشک ہو گئی۔ باوانا نک صاحب نے سچ کہا ہے۔ ع مند*ے کمیں نانکا جد کد منداہو۔ اے نادانو! جبکہ خدا نے اپنی سنت کے موافق اپنے دین قویم کی حجت پوری کر دی تو اب اس میں شبہات کو دخل دینا اور باوجود خدا کے اتمام حجت کے بیہودہ باتوں کو پیش کرنا کیا ضرورت ہے۔ اگر درحقیقت خدا تعالیٰ کے علم میں کوئی ایسا ہوگا کہ اُس پر اتمام حجت * یعنی اے نانک بُرے کاموں سے آخر برائی پیش آتی ہے۔ منہ