رسولؔ کے حکم کو نہیں مانتا وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا اور اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک اول قسم کفر یا دوسری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہوگا اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذّب اور منکر ہے تو گو شریعت نے (جس کی بنا ظاہرپر ہے) اُس کا نام بھی کافر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اُس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں مگر پھربھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت3 ۱؂ قابل مواخذہ نہیں ہوگا۔ ہاں ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم اُس کی نسبت نجات کا حکم دیں اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے ہمیں اس میں دخل نہیں اور جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوںیہ علم محض خدا تعالیٰ کو ہے کہ اس کے نزدیک باوجود دلائل عقلیہ اور نقلیہ اور عمدہ تعلیم اور آسمانی نشانوں کے کس پر ابھی تک اتمام حجت نہیں ہوا۔ ہمیں دعوےٰ سے کہنا نہیں چاہئے کہ فلاں شخص پر اتمام حجت نہیں ہوا ہمیں کسی کے باطن کا علم نہیں ہے اور چونکہ ہر ایک پہلو کے دلائل پیش کرنے اور نشانوں کے دکھلانے سے خدا تعالیٰ کے ہر ایک رسول کا یہی ارادہ رہا ہے کہ وہ اپنی حجت لوگوں پر پوری کرے اور اس بارے میں خدا بھی اس کا موید رہاہے اس لئے جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مجھ پر حجت پوری نہیں ہوئی* وہ اپنے انکارکا ذمہ وار آپ ہے اور اس بات کا بار ثبوت اُسی کی گردن پر ہے اور وہی اس بات کا جواب دِہ ہوگا کہ باوجود دلائل عقلیہ اور نقلیہ اور عمدہ تعلیم اورآسمانی * اس مقام میں یہ بھی تو دیکھناچاہئے کہ جس دین کو ایسا شخص اختیار کر رہا ہے وہ دین بمقابلہ اسلام کس قسم کی توحیداورعظمت حضرت باری پیش کرتاہے عجیب بات ہے کہ ایسے لوگ جن کے دین میں نہ خدا کی عظمت ہے نہ خدا کی توحیدنہ خدا کی شناخت کی کوئی راہ، وہ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ہم پر دین اسلام کی حجت پوری نہیں ہوئی ایک عیسائی جوصرف ایک عاجز انسان کو خدا مانتا ہے یا ایک آریہ جس کے نزدیک نہ خدا خالق ہے نہ تازہ نشانوں سے اپناثبوت دے سکتا ہے وہ کس منہ سے کہہ سکتا ہے کہ بہ نسبت اسلام میرا دین اچھا ہے کیا وہ اپنے مذہب کی خوبی دکھلانے کے لئے نیوگ کو پیش کرے گا جس میں باوجود زندہ ہونے ایک عورت کے خاوند کے دوسراشخص اُس سے ہم بستر ہو سکتا ہے۔ منہ