نہیں ہوا تو اُس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے ہمیں اِس بحث کی ضرورت نہیں ہاں جو اسلام سے محض بے خبر ہے اگر بے خبری میں مر جاوے جیسے نابالغ بچے اور مجانین یا کسی ایسے ملک کے رہنے والے جہاں اسلام نہیں پہنچا وہ معذور ہیں۔ از انجملہ یہ امر قابل تذکرہ ہے کہ عبد الحکیم خان نے اپنے دوسرے ہم جنسوں کی پیروی کرکے میرے پر یہ الزام لگائے ہیں کہ میں جھوٹ بولتا رہا ہوں اور میں دجال ہوں اور حرامخور ہوں اور خائن ہوں اور اپنے رسالہ المسیح الدجال میں طرح طرح کی میری عیب شماری کی ہے چنانچہ میرؔ ا نام شکم پرست نفس پرست متکبر دجال شیطان جاہل مجنون کذّاب سُست حرامخور عہد شکن خائن رکھا ہے اور دوسرے کئی عیب لگائے ہیں جو اُس کی کتاب المسیح الدجال میں لکھے ہوئے ہیں اور یہی تمام عیب ہیں جو اب تک یہودی حضرت عیسیٰ پر لگاتے ہیں۔ پس یہ خوشی کی بات ہے کہ اس اُمت کے یہودیوں نے بھی وہی عیب میرے پر لگائے مگر میں نہیں چاہتا کہ ان تمام الزاموں اور گالیوں کاجواب دوں بلکہ میں ان تمام باتوں کو خدا تعالیٰ کے حوالہ کرتا ہوں اگر میں ایسا ہی ہوں جیسا کہ عبد الحکیم اور اُس کے ہم جنسوں نے مجھے سمجھا ہے تو پھر خدا تعالیٰ سے بڑھ کر میرا دشمن اور کون ہوگا اور اگر میں خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسا نہیں ہوں تو پھر میں یہی بہتر طریق سمجھتا ہوں کہ ان باتوں کاجواب خدا تعالیٰ پر چھوڑ دوں۔ ہمیشہ اسی طرح پر سنت اللہ ہے کہ جب کوئی فیصلہ زمین پر ہو نہیں سکتا تو اس مقدمہ کو جو اُس کے کسی رسول کی نسبت ہوتا ہے خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور آپ فیصلہ کرتا ہے اور اگر مخالفوں میں سے کوئی غور کرے تو اُن کے الزاموں سے بھی میری ایک کرامت ہی ثابت ہوتی ہے کیونکہ جبکہ میں ایک ایسا ظالم اور شریر آدمی ہوں کہ ایک طرف تو عرصہ پچیس ۵۲ سال سے خدا تعالیٰ پر جھوٹ بول رہا ہوں اور رات کو اپنی طرف سے دو چار باتیں بناتا ہوں اور صبح کہتا ہوں کہ خدا کا یہ الہام ہے اور پھر دوسری طرف خدا تعالیٰ کی مخلوق پر یہ ظلم کرتا ہوں کہ ہزارہا روپیہ اُن کا بد دیانتی سے کھا لیا ہے۔ عہد شکنی کرتا ہوں۔ جھوٹ بولتا ہوں اوراپنی نفس پرستی کے لئے اُن کا نقصان کر رہا ہوں اور تمام دنیا کے عیب