اور آریہ سماج والے اپنے پرمیشر کے وجود پر کوئی دلیل نہیں لائے کیونکہ اُن کے نزدیک وہ خالق نہیں تا مخلوق پر نظر کرکے خالق کی شناخت ہو اور اُن کے مذہب کی رو سے خدا تعالیٰ معجزات نہیں دکھلاتا اور نہ ویدکے زمانہ میں دکھلائے تا معجزوں کے ذریعہ سے پرمیشر کا ثبوت ملے اورؔ اُن کے پاس اِس بات پر کوئی دلیل نہیں کہ وہ صفات جو پرمیشر کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں فی الحقیقت اُس میں موجود ہیں جیسے علم غیب اور سننا اور بولنا اور قدرت رکھنا اور دیالوہونا۔ پس اُن کا پرمیشر صرف فرضی پرمیشر ہے۔ یہی عیسائیوں کا حال ہے۔ اُن کے خدا کے الہام پر بھی مہر لگ گئی ہے۔ پس ایسے پرمیشر یا خدا پر ایمان لانے سے تسلی کیونکر ہو اور جو شخص اپنے خدا پر کامل یقین نہیں رکھتا وہ کیونکر کامل طور پر خدا کی محبت کر سکے اور کیونکر شرک سے خالی ہو سکے خدا نے اپنے رسول نبی کریم کی اتمام حجت میں کسر نہیں رکھی وہ ایک آفتاب کی طرح آیا اورہر ایک پہلو سے اپنی روشنی ظاہر کی۔ پس جو شخص اس آفتاب حقیقی سے مُنہ پھیرتا ہے اُس کی خیر نہیں ہم اُس کو نیک نیت نہیں کہہ سکتے۔ کیا جو شخص مجذوم ہے اور جذام نے اُس کے اعضاء کھا لئے ہیں وہ کہہ سکتا ہے کہ میں مجذوم نہیں یا مجھے علاج کی حاجت نہیں اور اگر کہے تو کیا ہم اس کو نیک نیت کہہ سکتے ہیں۔ ماسواء اس کے اگر فرض کے طورپر کوئی ایسا شخص دنیامیں ہو کہ وہ باوجود پوری نیک نیتی اورایسی پوری پوری کوشش کے کہ جیسا کہ وہ دنیاکے حصول کے لئے کرتا ہے اسلام کی سچائی تک پہنچ نہیں سکا تو اس کاحساب خدا کے پاس ہے مگر ہم نے اپنی تمام عمر میں ایسا کوئی آدمی دیکھا نہیں۔* اس لئے ہم اس بات کو قطعاً محال جانتے ہیں کہ کوئی شخص عقل اور انصاف کی رو سے کسی دوسرے مذہب کو اسلام پر ترجیح دے سکے۔ نادان اور جاہل لوگ نفس امارہ کی تعلیم سے ایک بات سیکھ لیتے ہیں کہ صرف توحید کافی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی ضرورت نہیں۔ مگر یاد رہے کہ توحید کی ماں نبی ہی ہوتاہے جس سے توحیدپیدا ہوتی ہے اور خدا کے وجود کا اُسی سے پتہ لگتا ہے اور خدا تعالیٰ سے زیادہ * اسلام ایک ایسا فطرت کے موافق مذہب ہے کہ اس کی سچائی ایک جاہل اور ناخواندہ ہندوکو بھی د۲و منٹ میں سمجھ میں آسکتی ہے کیونکہ جو کچھ اس کے مقابل پر دوسری قوموں نے قبول کیا ہوا ہے وہ تمام عقائد قابل شرم اورایک غمگین کے ہنسانے کا ذریعہ ہیں۔ منہ