انسانوں کی محض عقل پر نہیں چھوڑا گیا تا توحید خالص رہے اورانسانی عُجب کا شرک اس میں مخلوط نہ ہو جائے اور اسی وجہ سے فلاسفہ ضالہ کو توحید خالص نصیب نہیں ہوئی۔ کیونکہ وہ رعونت اور تکبر اور عُجب میں گرفتار رہے اور توحید خالص نیستی کو چاہتی ہے اور وہ نیستی جب تک انسان سچے دل سے یہ نہ سمجھے کہ میری کوشش کا کچھ دخل نہیں یہ محض انعام الٰہی ہے حاصل نہیں ہو سکتی۔ مثلاً ایک شخص تمام رات جاگ کر اور اپنے نفس کو مصیبت میں ڈال کر اپنے کھیت کی آبپاشی کر رہا ہے اور دوسرا شخص تمام رات سوتا رہا اور ایک بادل آیا اور اُس کے کھیت کو پانی سے بھر دیا۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا وہ دونوں خدا کا شکر کرنے میں برابر ہوں گے؟ ہر گز نہیں۔ بلکہ وہ زیادہ شکر کرے گا جس کے کھیت کو بغیر اُس کی محنت کے پانی دیا گیا۔ اسی لئے خدا تعالیٰ کے کلام میں بار بار آیا ہے کہ اس خدا کا شکر کرو جس نے رسول بھیجے اور تمہیں توحیدسکھائی۔ (۹)سوال جن لوگوں نے نیک نیتی کے ساتھ آنحضرتؐ کا خلاف کیا یاکرتے ہیں یعنی آنجناب کی رسالت سے منکر ہیں اور توحید الٰہی کے قائل ہیں نیک عمل بجا لاتے ہیں اوربد عملوں سے پرہیز کرتے ہیں اُن کی نسبت کیا عقیدہ رکھا جائے۔ الجواب:۔ انسان کی نیک نیتی تسلی پانے پر ثابت ہوتی ہے پس جبکہ بجز اسلام کے کسی مذہب میں تسلی نہیں مل سکتی تو نیک نیتی کا ثبوت کیا ہوا۔ مثلاً عیسائی مذہب کا یہ حال ہے کہ وہ کُھلے کُھلے طور پر ایک انسان کو خدا بنا رہے ہیں اور انسان بھی وہ کہ جو تختہ مشق مصائب ہے* * کیا کوئی کانشنس یا نورقلب اِس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ ایک عاجز انسان جو گذشتہ نبیوں سے بڑھ کر ایک ذرّہ بھر کوئی کام دکھلا نہیں سکا بلکہ ذلیل یہودیوں سے ماریں کھاتا رہا۔ وہی خدا اور وہی زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا اور مجرموں کو سزا دینے والا ہے اور کیا کوئی عقل قبول کر سکتی ہے کہ خدائے قادر باوجود اپنی بے انتہا طاقتوں کے کسی دوسرے کی مدد کا محتاج رہے۔ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ عیسیٰ کیسا خدا تھا کہ جو اپنی مخلصی کیلئے تمام رات رو رو کر دعا کرتا رہا تعجب کہ جبکہ تینوں خدا اس کے اندر تھے تو وہ چو ۴ تھا خدا کون تھاجس کی جناب میں اُس نے رو رو کر ساری رات دُعا کی اور پھر وہ دُعا قبول بھی نہ ہوئی۔ ایسے خدا پر کیا امید رکھی جائے جس پر ذلیل یہودی غالب آئے اور اُس کا پیچھا نہ چھوڑا جب تک سُولی پر نہ چڑھا دیا۔ آریوں کا تو گویا کوئی خدا ہی نہیں انادی جو ہوئے۔ کیا یہ ہدایت انسان کو کچھ تسلی دے سکتی ہے۔ مگر اسلام وہ خدا پیش کرتا ہے جس پر انسانی فطرت اور تمام انبیاؑ ء کا اتفاق ہے جو اسلام کے کامل پرستاروں پر اپنی طاقتیں ظاہر کرتا ہے۔منہ * اسلام ایک ایسا فطرت کے موافق مذہب ہے کہ اسکی سچائی ایک جاہل اور ناخواندہ ہندوکو بھی دو منٹ میں سمجھ میں آسکتی ہے کیونکہ جو کچھ اسکے مقابل پر دوسری قوموں نے قبول کیا ہوا ہے وہ تمام عقائد قابل شرم اورایک غمگین کے ہنسانے کا ذریعہ ہیں۔ منہ