اتمام حجت کو کون جانتا ہے اُس نے اپنے نبی کریم کی سچائی ثابت کرنے کے لئے زمین و آسمان نشانوں سے بھر دیا ہے اور اب اس زمانہ میں بھی خدا نے اس ناچیز خادم کو بھیج کر ہزارہا نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کے لئے ظاہر فرمائے ہیں جو بارش کی طرح برس رہے ہیں تو پھر اتمام حجت میں کونسی کسر باقی ہے۔ جس شخص کو مخالفت کرنے کی عقل ہے وہ کیوں موافقت کی راہ کو سوچ نہیں سکتا اور جورات کو دیکھتا ہے کیوں اُس کو روز روشن میں نظر نہیں آتا۔ حالاؔ نکہ تکذیب کی راہوں کی نسبت تصدیق کی راہ بہت سہل ہے ہاں جو شخص مسلوب العقل کی طرح ہے اور انسانی قوتوں سے کم حصہ رکھتا ہے اس کا حساب خدا کے سپرد کرنا چاہئے اس کے بارہ میں ہم کلام نہیں کر سکتے۔ وہ اُن انسانوں کی طرح ہے جو خورد سالی اور بچپن میں مر جاتے ہیں مگر ایک شریر مکذب یہ عذر نہیں کر سکتا کہ میں نیک نیتی سے تکذیب کرتا ہوں۔ دیکھنا چاہئے کہ اس کے حواس اس لائق ہیں یا نہیں کہ مسئلہ تو حید اور رسالت کو سمجھ سکے۔ اگر معلوم ہوتا ہے کہ سمجھ سکتا ہے مگر شرارت سے تکذیب کرتا ہے تو وہ کیونکر معذور رہ سکتا ہے۔ اگر کوئی آفتاب کی روشنی کو دیکھ کر یہ کہے کہ دن نہیں بلکہ رات ہے تو کیا ہم اُس کو معذور سمجھ سکتے ہیں۔ اِسی طرح جو لوگ دانستہ کج بحثی کرتے ہیں اور اسلام کے دلائل کو توڑ نہیں سکتے کیا ہم خیال کر سکتے ہیں کہ وہ معذور ہیں۔ اور اسلام تو ایک زندہ مذہب ہے جو شخص زندہ اور مُردہ میں فرق کر سکتا ہے وہ کیوں اسلام کو ترک کرتا اور مُردہ مذہب کو قبول کرتا ہے۔* خداتعالیٰ اس زمانہ میں بھی اسلام کی تائید میں بڑے بڑے نشان ظاہر کرتا ہے اور جیسا کہ اس بارہ میں مَیں خود صاحب تجربہ ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ اگر میرے مقابل پر تمام دنیا کی قومیں جمع ہو جائیں اور اس بات کا بالمقابل امتحان ہو کہ کس کو خدا غیب کی خبریں دیتا ہے اور کس کی دعائیں قبول کرتا ہے اور کِس کی مدد کرتا ہے اور کس کے لئے بڑے بڑے نشان دکھاتا ہے تو میں خدا
* جو شخص بے دلیل ایک انسان کو خدا بناتا ہے یا بے دلیل خدا کو خالق ہونے سے جواب دیتا ہے کیا وہ اسلام کی سچائی کے صاف صاف دلائل سمجھ نہیں سکتا۔ منہ