روشنی دیکھے اور پھر اُس سے نزدیک ہو جائے یہاں تک کہ اُس آگ میں اپنے تئیں داخل کر دے اور تمام جسم جل جائے اور صرف آگ ہی باقی رہ جائے۔ اسی طرح کامل تعلق والا دن بدن خدا تعالیٰ کے نزدیک ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ محبتِ الٰہی کی آگ میں تمام وجود اُس کا پڑجاتا ہے اور شعلۂ نور سے قالب نفسانی جل کر خاک ہو جاتا ہے اور اُس کی جگہ آگ لے لیتی ہے یہ انتہا اس مبارک محبت کا ہے جو خدا سے ہوتی ہے۔ یہ امر کہ خدا تعالیٰ سے کسی کا کامل تعلق(ہے) اس کی بڑی علامت یہ ہے کہ صفات الٰہیہ اُس میں پیدا ہو جاتی ہیں اور بشریت کے رذائل شعلۂؔ نور سے جل کر ایک نئی ہستی پیدا ہوتی ہے اور ایک نئی زندگی نمودار ہوتی ہے جو پہلی زندگی سے بالکل مغائر ہوتی ہے اور جیسا کہ لوہا جب آگ میں ڈالا جائے اور آگ اس کے تمام رگ وریشہ میں پُورا غلبہ کر لے تو وہ لوہا بالکل آگ کی شکل پیدا کر لیتا ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ آگ ہے گو خواص آگ کے ظاہر کرتا ہے اِسی طرح جس کو شعلۂ محبت الٰہی سر سے پیر تک اپنے اندر لیتا ہے وہ بھی مظہر تجلیات الٰہیہ ہو جاتا ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدا ہے بلکہ ایک بندہ ہے جس کو اُس آگ نے اپنے اندر لے لیا ہے اور اُس آگ کے غلبہ کے بعد ہزاروں علامتیں کامل محبت کی پیدا ہو جاتی ہیں کوئی ایک علامت نہیں ہے تاوہ ایک زیرک اور طالبِ حق پر مشتبہ ہو سکے بلکہ وہ تعلق صدہا علامتوں کے ساتھ شناخت کیا جاتا ہے۔* منجملہ اُن علامات کے یہ بھی ہے کہ خدائے کریم اپنا فصیح اور لذیذکلام وقتاً فوقتاً اُس کی زبان پر جاری کرتا رہتا ہے جو الٰہی شوکت اور برکت اور غیب گوئی کی کامل طاقت اپنے اندر رکھتا ہے اور ایک نُور اُس کے ساتھ ہوتا ہے جو بتلاتا ہے کہ یہ یقینی امر ہے ظنّی نہیں ہے۔ اور ایک ربّانی چمک اُس کے اندر ہوتی ہے اور کدورتوں سے پاک ہوتا ہے اور بسا اوقات اور اکثر اور اغلب طور پر وہ کلام کسی زبردست پیشگوئی پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کی پیشگوئیوں کا حلقہ نہایت وسیع اور عالمگیر ہوتا ہے اور وہ پیشگوئیاں کیا باعتبار کمیّت اور کیا باعتبار کیفیت بے نظیر ہوتی ہیں کوئی اُن کی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔ اور ہیبتِ الٰہی اُن میں بھری ہوئی ہوتی ہے اور قُدرتِ تامہّ کی وجہ سے خدا کا چہرہ اُن میں نظر آتا ہے اور اُس کی پیشگوئیاں نجومیوں کی طرح نہیں ہوتیں بلکہ اُن میں محبوبیّت اور قبولیت کے آثار ہوتے ہیں اور ربّانی تائید اور نصرت سے بھری ہوئی