ہیں کہ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ چند دن بارش رہی اور بہت مینہ برسا۔ مینہ تھم جانے کے بعد میں اپنے کوٹھے پر کسی کام کے لئے چڑھا اور میرا ہمسایہ ایک بڈھا آتش پرست تھا وہ اُس وقت اپنے کوٹھے پر بہت سے دانے ڈال رہا تھا۔ مَیں نے سبب پوچھا تو اُس نے جواب دیا کہ چند روز سے بباعث بارش پرندے بھوکے ہیں مجھے اُن پر رحم آیا اس لئے میںیہ دانے اُن کے لئے ڈال رہا ہوں تا مجھے ثواب ہو۔ میں نے جواب دیا کہ اے بڈھے تیرا یہ خیال غلط ہے۔ تو مُشرک ہے اور مُشرک کو کوئی ثواب نہیں ملتاکیونکہ تو آتش پرست ہے۔ یہ کہہ کر میں نیچے اُتر آیا۔ کچھ مُدت کے بعد مجھے حج کرنے کا اتفاق ہوا اور میں مکہ معظمہ پہنچا اور جب میں طواف کر رہا تھا تو میرے پیچھے سے ایک طواف کرنے والے نے مجھے میرا نام لے کر آواز دی۔ جب میں نے پیچھے کی طرف دیکھا تو وہی بڈھا تھا جو مشرف باسلام ہو کرطواف کر رہا تھا۔ اُس نے مجھے کہا کہ کیا اُن دانوں کا جو میں نے پرندوں کو ڈالے تھے مجھے ثواب ملایا نہ ملا؟ پس جبکہ پرندوں کو دانہ ڈالناآخر کھینچ کر اسلام کی طرف لے آتا ہے تو پھرجو شخص اس سچے بادشاہ قادر حقیقی پر ایمان لاوے تو کیا وہ اسلام سے محروم رہے گا۔ ہر گز نہیں
عاشق کہ شدکہ یار بحالش نظر نہ کرد
اے خواجہ درد نیست وگرنہ طبیب ہست
یاد رہے کہ اول تو توحید بغیر پیروی نبی کریم کے کامل طور پر حاصل نہیں ہو سکتی جیسا کہ ابھی ہم بیان کر آئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفات جو اس کی ذات سے الگ نہیں ہو سکتیں بغیر آئینہء وحی نبوت کے مشاہدہ میںآ نہیں سکتیں۔ اُن صفات کو مشاہدہ کے رنگ میں دکھلانے والا محض نبی ہوتا ہے۔ علاوہ اس کے اگر بفرض محال حصول اُن کا ناقص طور پر ہو جائے تو وہ شرک کی آلائش سے خالی نہیں جب تک کہ خدا اسی مغشوش متاع کو قبول کرکے اسلام میں داخل نہ کرے کیونکہ جو کچھ انسان کو خدا تعالیٰ سے اُس کے رسول کی معرفت ملتا ہے وہ ایک آسمانی پانی ہے اس میں اپنےؔ فخر اور عُجب کو کچھ دخل نہیں لیکن انسان اپنی کوشش سے جو کچھ حاصل کرتا ہے۔ اس میں ضرور کوئی شرک کی آلائش پیدا ہو جاتی ہے۔ پس یہی حکمت تھی کہ توحیدکو سکھلانے کے لئے رسول بھیجے گئے اور