سے زیادہ لوگ میرے ہاتھ پر اپنے گناہوں سے آج تک توبہ کر چکے ہیں اور اس قدر سرعت سے یہ کارروائی جاری ہے کہ ہر ایک ماہ میں صدہا آدمی بیعت میں داخل ہوتے جاتے ہیں اور ہمارے سلسلہ سے غیر ملکوں کے لوگ بے خبر نہیں ہیں بلکہ ممالک امریکہ اور یورپ کے دُور دراز مُلکوں تک ہماری دعوت پہنچ گئی ہے یہاں تک کہ امریکہ میں کئی لوگ ہماری جماعت میں داخل ہو چکے ہیں اور خود انہوں نے غیر معمولی زلزلوں کی پیشگوئیوں کو ہمارے نشانوں کا ثبوت دینے کے لئے امریکہ کے نامی اخباروں میں شائع کرایا ہے اور یورپ کے بعض لوگ بھی ہماری جماعت میں داخل ہیں اور اسلامی بلاد کا تو کیا ذکر کریں کہ اب تک جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کچھ زیادہ تین لاکھ سے اس جماعت میں داخل ہو چکے ہیں اور ہزار ہا نشانوں سے لوگ اطلاع پا چکے ہیں اور اکثران میں صالح اور نیک بخت ہیں۔* (۸)سواؔ ل اگرچہ ہمارا ایمان ہے کہ نری خشک توحید مدار نجات نہیں ہو سکتی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے علیحدہ ہو کر کوئی عمل کرنا انسان کو ناجی نہیں بنا سکتا۔ لیکن طمانیت قلب کے لئے عرض پر داز ہیں کہ عبد الحکیم خان نے جو آیات لکھی ہیں ان کا کیا مطلب ہے۔مثلاً افسوس کہ ہماری جماعت کی ایمانداری اور اخلاص پر اعتراض کرنے والے دیانت اور راستبازی سے کام نہیں لیتے۔ اس جماعت میں بعض لوگوں نے اپنی استقامت کے وہ نمونے دکھائے ہیں جن کی اس زمانہ میں نظیر ملنا مشکل ہے مثلاً ایک خدا ترس اور منصف مزاج کومولوی صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کی استقامت پر نظر انصاف ڈالنی چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ کیا اس سے بڑھ کر کوئی شخص دنیا میں استقامت کا نمونہ دکھا سکتا ہے۔ مولوی صاحب موصوف ایک جلیل الشان فاضل علوم عربیہ میں تھے اور تمام عمر حدیث اور تفسیر کے درس میں بسر کی تھی اور ان کو الہام بھی ہوتا تھا اور پچاس ہزار کے قریب اُن کے پیرو اور شاگرد تھے اور دنیویؔ عزت بھی بہت رکھتے تھے یہاں تک کہ ریاست کابل کے امیروں کی نظر میں ایک بزرگوار اور شیخ الوقت تسلیم کئے گئے تھے اور گورنمنٹ انگریزی اور ریاست میں جاگیر رکھتے تھے انہوں نے میری سچائی ماننے پر اپنی جان دیدی۔ اُن کو بہت سمجھایاگیا کہ مُجھ سے انکار کریں پر انہوں نے کہا کہ میں نادان نہیں۔ میں بصیرت کی راہ سے ایمان لایا ہوں میں ان کو ترک نہیں کر سکتا مگر جان کو ترک کروں گا۔ امیر نے کئی دفعہ ان کو سمجھایا کہ آپ بزرگوار ہیں لوگ شورش کرتے ہیں مصلحتِ وقت سمجھ لیں۔ انہوں نے کہا کہ میں دین کو دُنیا پر مقدم رکھتا ہوں میں اپنا ایمان ضائع کرنا نہیں چاہتا۔ میں جانتا ہوں جس سے