3 ۱ اور جیسا کہ یہ آیت 3 3 ۲۔ اور جیسا کہ یہ آیت 3 33 ۳۔
الجواب:۔ واضح ہو کہ قرآن شریف میں ان آیات کے ذکر کرنے سے یہ مطلب نہیں ہے کہ بغیر اس کے جو رسول پر ایمان لایا جائے نجات ہو سکتی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ بغیر اس کے کہ خدائے واحد لاشرؔ یک اور یوم آخرت پر ایمان لایا جاوے نجات نہیں ہو سکتی۔* اور اللہ پر پور اایمان تبھی ہو سکتا ہے کہ اُسکے رسولوں پر ایمان لاوے۔ وجہ یہ کہ وہ اس کی صفات کے مظہر ہیں اور کسی چیز کا وجود بغیر وجود اُس کی صفات کے بپایۂ ثبوت نہیں پہنچتا۔ لہٰذا بغیر علم صفات باری تعالیٰ کے معرفت باری تعالیٰ ناقص رہ جاتی ہے کیونکہ مثلاً یہ صفات اللہ تعالیٰ کے
میں نے بیعت کی ہے وہ حق پر ہے اور تمام دنیا سے بہتر ہے اور آنے والا مسیح یہی ہے اور عیسیٰ مر گیا تب مولویوں نے شور مچایا کہ کافر ہو گیا کیوں قتل نہ کیا جاوے مگر امیر نے پھر بھی قتل کرنے میں تاخیر کی۔ آخر یہ حجت پیش کی گئی کہ یہ لوگ جہاد کے منکر ہیں کہ اب غیر قوموں سے تلوار کے ساتھ دین کے لئے لڑنا نہیں چاہئے۔ چنانچہ مولوی صاحب نے اس الزام سے انکار نہ کیا اور کہا کہ یہی وعدہ ہے کہ مسیح کو خدا آسمان سے مدد دے گا۔ اب جہاد حرام ہے اورپھر وہ نہایت بے رحمی سے سنگسار کئے گئے اور اُن کے عیال گرفتار کرکے کسی دُور دراز گوشۂ ریاست کابل میں پہنچائے گئے اور اُن کی جماعت کے آدمی اس سلسلہ میں داخل ہو گئے۔ اب حیا اور شرم سے سوچنا چاہئے کہ ایک فاضل جلیل سے جو دنیا اور دین میں عزت رکھتا تھا جس نے میرے لئے جان دی عبد الحکیم کو کیانسبت ہے اگر وہ مرتد ہو گیا تو ایسے آدمی کے ارتداد سے جو علوم عربیہ سے بالکل محروم ہے دین کو کیا نقصان پہنچا ایسا ہی عمادالدین جو مولوی کہلاتا تھا مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا تھا اس نے اسلام کا کیا بگاڑا تھا۔ تایہ خیال کریں کہ یہ بھی کچھ بگاڑے گا۔ اِسی طرح دھرمپال جو انہیں دنوں میں اسلام سے مُرتد ہو گیا اس نے کیا بگاڑا*۔
درکارخانۂ عشق از کفر ناگزیر است آتش کرابسو زد گر بولہب نباشد منہ
* قرآن شریف میں عادت اللہ ہے کہ بعض جگہ تفصیل ہوتی ہے اور بعض جگہ اجمال سے کام لیا جاتا ہے اور پڑھنے والے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ مجمل آیتوں کے ایسے طور سے معنی کرے کہ آیات مفصلہ سے مخالف نہ ہو جائیں۔ مثلاً خدا تعالیٰ نے تصریح سے فرما دیا کہ شرک نہیں بخشا جائے گا مگر قرآن شریف کی یہ آیت کہ3 ۴ اس آیت سے مخالف معلوم ہوتی ہے جس میں لکھا ہے کہ شرک نہیں بخشا جائے گا۔ پس یہ الحاد ہوگا کہ اس آیت کے وہ معنی کئے جائیں کہ جو آیات محکمات بیّنات کے مخالف ہیں۔منہ