دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا فضل ایسے طور سے میرے شامل حال ہے کہ میری اتمام حجت کے لئے اور اپنے نبی کریم کی اشاعت دین کے لئے خدا تعالیٰ نے وہ سامان مقرر کر رکھے ہیں کہ پہلے اِس سے کسی نبی کو میسر نہیں آئے تھے چنانچہ میرے وقت میں ممالک مختلفہ کے باہمی تعلقات بباعث سواری ریل اور تار اور انتظام ڈاک اور انتظام سفر بحری اور بَرّی اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ گویا اب تمام ممالک ایک ہی ملک کا حکم رکھتے ہیں بلکہ ایک ہی شہر کا حکم رکھتے ہیں اور ایک شخص اگر سیر کرنا چاہے تو تھوڑی مدت میں تمام دنیا کا سیر کرکے آسکتا ہے۔ ماسوا اس کے کتابوں کا لکھنا ایسا سہل اور آسان ہو گیا ہے کہ ایسی ایسی چھاپوں کی کلیں ایجاد ہو گئی ہیں کہ جس کسی ضخیم کتاب کے چند مجلد سو برس میں بھی نہیں لکھ سکتے تھے اس کے کئی لاکھ نسخے ایک دو برس میں لکھ سکتے ہیں اور تمام مُلک میں شائع ہو سکتے ہیں اور ہر ایک پہلو سے تبلیغ کے لئے بھی اِس قدر آسانیاں ہو گئی ہیں کہ ہمارے مُلک میں آج سے سو برس پہلے اُن کا نام و نشان نہ تھا اور آج سے پہلے اگر پچاس برس پر نظر ڈالی جائے تو ثابت ہوگا کہ اکثر لوگ نا خواندہ اور جاہل تھے مگر اب بباعث کثرت مدارس کے جو دیہات میں بھی قائم کئے گئے ہیں اس قدر استعداد علمیّت لوگوں کو حاصل ہو گئی ہےؔ کہ وہ دینی کتابوں کو بڑی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں اور میری طرف سے تبلیغ کی کارروائی یہ ہوئی ہے کہ میں نے پنجاب اور ہندوستان کے بعض شہروں جیسے امرتسر، لاہور، جالندھر، سیالکوٹ اور دہلی اور لدھیانہ وغیرہ میں بڑے بڑے مجمعوں میں خود جاکر خدا تعالیٰ کے پیغام کو پہنچایا ہے اور ہزار ہا انسانوں کے رُوبرو اسلامی تعلیم کی خوبیاں پیش کی ہیں اور ستر ۰۷ کے قریب کتابیں عربی اور فارسی اوراُردو اور انگریزی میں حقّانیت اسلام کے بارہ میں جن کی جلدیں ایک لاکھ کے قریب ہونگی تالیف کرکے ممالک اسلام میں شائع کی ہیں اور اسی مقصد کے لئے کئی لاکھ اشتہار شائع * کیا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل اور اُس کی ہدایت سے تین لاکھ * ایک دفعہ ۱۶۰۰۰ سولہ ہزار اشتہار حقّانیت اسلام کے بارے میں انگریزی میں ترجمہ کرا کر ممالک یورپ اور امریکہ میں مَیں نے شائع کیا تھا جو کئی انگریزی اخباروں میں بھی شائع ہو گیا تھااور وہ اشتہارات ان مقامات یورپ اور امریکہ میں پہنچائے گئے تھے جہاں لوگ اسلامی خوبیوں سے بے خبر تھے اور ایک انگریز امریکہ کا رہنے والا وب نام جو ابھی اُن دِنوں میں مسلمان نہیں ہوا تھا اس کو بھی وہ اشتہار پہنچے تھے جن کے بعد وہ مسلمان ہو گیا اور اب تک مسلمان ہے۔منہ