غلطیوں پر متنبہ کر دے کہ فلاں فلاں اعتقاد میں تم خطا پر ہو۔ یا فلاں فلاں عملی حالت میں تم سُست ہو۔ دوسرے یہ کہ آسمانی نشانوں اور دلائل عقلیہ اور نقلیہ سے اپنا سچا ہونا ثابت کرے اور عادت اللہ اِس طرح پر ہے کہ اوّل اپنے نبیوں اور مُرسلوں کو اس قدر مہلت دیتا ہے کہ دنیا کے بہت سے حصہ میں اُنکا نام پھیل جاتا ہے اور اُن کے دعوےٰ سے لوگ مطلع ہو جاتے ہیں اور پھر آسمانی نشانوں اور دلائل عقلیہ اور نقلیہ کے ساتھ لوگوں پر اتمام حُجت کر دیتا ہے اورؔ دنیا میں خارق عادت طور پر شہرت دینا اورروشن نشانوں کے ساتھ اتمام حجت کرنا خدا تعالیٰ کے نزدیک غیر ممکن نہیں جس طرح تم دیکھتے ہو کہ ایک دم میں آسمان کے ایک کنارہ سے بجلی چمکتی اور دوسرے کنارہ تک پھیل جاتی ہے۔ اِسی طرح خدا کے حکم سے خدا کے رسولوں کو شہرت دی جاتی ہے اور خدا کے فرشتے زمین پر اُترتے اور سعید لوگوں کے دِلوں میں ڈالتے ہیں کہ جن راہوں کو تم نے اختیار کر رکھا ہے وہ صحیح نہیں ہیں تب ایسے لوگ راہ راست کی تلاش میں لگ جاتے ہیں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے امام وقت کی خبر ان لوگوں کو پہنچ جاتی ہے۔ بالخصوص یہ زمانہ تو ایسا زمانہ ہے کہ چند دنوں میں ایک نامی ڈاکو کی بھی بد نامی کے ساتھ تمام دنیا میں شہرت ہو سکتی ہے تو کیا خدا تعالیٰ کے بندے جن کے ساتھ ہر وقت خدا ہے وہ اِس دنیا میں شہرت نہیں پا سکتے اور مخفی رہتے ہیں اور خدا اُن کی شہرت پر قادر نہیں ہوتا * ۔ میں
* آج سے پچیس ۲۵ برس پہلے براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ کا یہ الہام میری نسبت موجود ہے۔ یہ اُس زمانہ کا الہام ہے کہ جبکہ میں ایک پوشیدہ زندگی بسر کرتا تھا اور بجز میرے والد صاحب کے چند تعارف رکھنے والوں کے کوئی مجھ کو جانتا بھی نہیں تھا اور وہ الہام یہ ہے انت منّی بمنزلۃ توحیدی و تفریدی۔ فحان ان تعان و تعرف بین الناس یعنی تو مجھ سے بمنزلہ میری توحید و تفرید کے ہے۔ پس وہ وقت آگیا ہے کہ تجھے ہر ایک قسم کی مدد دی جائے گی۔ اوردنیا میں تو عزت کے ساتھ شہرت دیا جائے گا۔ اور شہر ت دینے کے وعدہ کو توحید اور تفرید کے ساتھ ذکر کرنا اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ جلال اور عزّت کے ساتھ شہرت پانا اصل حق خدائے واحد لا شریک کا ہے۔ پھرجس پر خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہووہ اپنی نہایت محویت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی توحید کے قائم مقام ہو جاتا ہے اور رنگ دُوئی اس سے جاتا رہتا ہے تب خدا تعالیٰ اسی طرح اس کو عزّت اور جلال اور عظمت کے ساتھ شہرت دیتا ہے جیسا کہ وہ اپنے تئیں شہرت دیتا ہے کیونکہ توحیداور تفرید یہ حق پیدا کرتی ہے کہ وہ ایسی ہی عزت حاصل کرے۔ منہ