ہے۔ تو اب اِس بات کا سہل علاج ہے کہ اگر دوسرے لوگوں میں تخم دیانت اورؔ ایمان ہے اور وہ منافق نہیں ہیں تو اُن کو چاہئے کہ ان مولویوں کے بارے میں ایک لمبا اشتہار ہر ایک مولوی کے نام کی تصریح سے شائع کر دیں کہ یہ سب کافر ہیں کیونکہ انہوں نے ایک مسلمان کو کافر بنایا۔ تب میں اُن کو مسلمان سمجھ لوں گا۔ بشرطیکہ اُن میں کوئی نفاق کا شبہ نہ پایا جاوے اور خدا کے کُھلے کُھلے معجزات کے مکذب نہ ہوں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 3 3 ۱ یعنی منافق دوزخ کے نیچے کے طبقے میں ڈالے جائیں گے اور حدیث شریف میں یہ بھی ہے کہ ما زنا زانٍ و ھو مؤمن وما سرق سارق وھو مؤمن یعنی کوئی زانی زنا کی حالت میں اور کوئی چور چوری کی حالت میں مومن نہیں ہوگا۔ پھر منافق نفاق کی حالت میں کیونکر مومن ہو سکتا ہے۔ اگر یہ مسئلہ صحیح نہیں ہے کہ کسی کو کافر کہنے سے انسان خود کافر ہو جاتا ہے تو اپنے مولویوں کا فتویٰ مجھے دکھلادیں میں قبول کر لوں گا اور اگر کافر ہو جاتا ہے تو دو سو مولوی کے کفر کی نسبت نام بنام ایک اشتہار شائع کر دیں۔ بعد اس کے حرام ہوگا کہ میں اُن کے اسلام میں شک کروں بشرطیکہ کوئی نفاق کی سیرت اُن میں نہ پائی جائے۔*
(۷)سوال
دعوت پہنچ جانے سے کیا مراد ہے۔
الجواب:۔ دعوت پہنچا دینے میں دو امر ضروری ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ وہ شخص جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہے وہ لوگوں کو اطلاع دیدے کہ میں خداتعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور اُن کو اُن کی
* جیسا کہ میں نے بیان کیا کافر کو مومن قرار دینے سے انسان کافر ہو جاتا ہے کیونکہ جو شخص درحقیقت کافر ہے وہ اُس کے کفر کی نفی کرتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ جس قدر لوگ میرے پر ایمان نہیں لاتے وہ سب کے سب ایسے ہیں کہ اُن تمام لوگوں کو وہ مومن جانتے ہیں جنہوں نے مجھ کو کافر ٹھہرایا ہے پس میں اب بھی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتا لیکن جن میں خود اُنہیں کے ہاتھ سے ان کی وجہ کفر کی پیدا ہو گئی ہے۔ ان کو کیونکر مومن کہہ سکتا ہوں۔ منہ