خطرۂ ایمان۔ وہ اپنی معرفت ناقصہ کی وجہ سے خطرہ کی حالت میں ہے ہاں ایسے لوگوں کو بھی کسی قدر کچھ معارف اور حقائق معلوم ہو جاتے ہیں مگر اُس دودھ کی طرح جس میں کچھ پیشاب بھی پڑا ہو اور اُس پانی کی طرح جس میں کچھ نجاست بھی ہو اور اس درجہ کا آدمی اگرچہ بہ نسبت درجہ اوّل کے اپنی خوابوں اور الہامات میں شیطانی دخل اور حدیث النفس سے کسی قدر محفوظ ہوتا ہے لیکن چونکہ اُس کی فطرت میں ابھی شیطان کا حصہ باقی ہے اِس لئے شیطانی القاء سے بچ نہیں سکتا۔ اور چونکہ نفس کے جذبات بھی دامنگیر ہیں اس لئے حدیث النفس سے بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ وحی اور الہام کا کمالِ صفائی، صفائی نفس پر موقوف ہے۔ جنؔ کے نفس میں ابھی کچھ گند باقی ہے اُن کی وحی اور الہام میں بھی گند باقی ہے۔
باب سو۳ م
اُن لوگوں کے بیان میں جو خدا تعالیٰ سے اکمل اور اصفٰی طور پر وحی پاتے ہیں اور کامل طور پرشرفِ مکالمہ اور مخاطبہ ان کو حاصل ہے اور خوابیں بھی اُن کو فلق الصبح کی طرح سچی آتی ہیں اور خدا تعالیٰ سے اکمل اور اتم طور پر محبت کا تعلق رکھتے ہیں اور محبت الٰہی کی آگ میں داخل ہو جاتے ہیں اور نفسانی قالب اُن کا شعلۂ نور سے جل کر بالکل خاک ہو جاتا ہے۔
جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نہایت کریم و رحیم ہے جو شخص اُس کی طرف صدق اور صفا سے رجوع کرتا ہے۔وہ اُس سے بڑھ کر اپنا صدق و صفا اُس سے ظاہر کرتا ہے۔ اُس کی طرف صدق دل سے قدم اُٹھانے والا ہر گز ضائع نہیں ہوتا۔ خدا تعالیٰ میں بڑے بڑے محبت اور وفاداری اور فیض اور احسان اور کرشمۂ خدائی دکھلانے کے اخلاق ہیں مگر وہی اُن کو پورے طور پر مشاہدہ کرتا ہے جو پورے طور پر اُس کی محبت میں محو ہو جاتا ہے۔ اگرچہ وہ بڑا کریم و رحیم ہے مگر غنی اور بے نیاز ہے اس لئے جو شخص اُس کی راہ میں مرتا ہے وہی اُس سے زندگی پاتا ہے۔ اور جو اُس کیلئے سب کچھ کھوتا ہے اُسی کو آسمانی انعام ملتا ہے۔
خدا تعالیٰ سے کامل تعلق پَیدا کرنیوالے اُس شخص سے مشابہت رکھتے ہیں جو اوّل دور سے آگ کی