وہ اؔ یک دیوارِ ریگ ہے وہ آج بھی تباہ ہوا اور کل بھی۔ ایمان درحقیقت وہی ایمان ہے جو خدا کے رسول کو شناخت کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے اس ایمان کو زوال نہیں ہوتا اور اس کا انجام بد نہیں ہوتا۔ ہاں جو شخص سر سری طور پر رسول کا تابع ہو گیا اور اُس کو شناخت نہیں کیا اور اُس کے انوار سے مطلع نہیں ہوا اُس کا ایمان بھی کچھ چیز نہیں اور آخر ضرور وہ مُرتد ہوگا جیسا کہ مسیلمہ کذّاب اور عبد اللہ ابن ابی سرح اور عبیدہ اللہ بن جحش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہودا اسکریوطی اورپانسو اور عیسائی مرتد حضرت عیسیٰ کے زمانہ میں اور جموں والا چراغدین اور عبدالحکیم خان ہمارے اِس زمانہ میں مُرتد ہوئے۔ (۴)سوال پہلی کتابوں ازالہ اوہام وغیرہ میں لکھا ہے کہ یہ بھی کچھ کوئی پیشگوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے۔ مری پڑے گی۔ لڑائیاں ہوں گی قحط پڑیں گے لیکن اب کئی تحریروں میں دیکھا گیا ہے کہ انہیں پیشگوئیوں کو جناب والا نے عظیم الشان پیشگوئیاں قرار دیا ہے۔ الجواب:۔ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ میں نے انہیں پیشگوئیوں کو عظیم الشان قرار دیا ہے ہر ایک چیز کی عظمت یا عدم عظمت اس کی مقدار اور کیفیت سے اور نیز اُس کے حالات خاصہ یامعمولی حالات سے ظاہر ہوتی ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جس مُلک میں طاعون اور زلزلوں کی خبر دی تھی وہ ملک ایسا ہے کہ اکثر اس میں طاعون کا دورہ رہتا ہے اور کشمیر کی طرح اس میں زلزلے بھی آتے رہتے ہیں اور قحط بھی پڑتے ہیں اور لڑائیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے اور حضرت مسیح کی پیشگوئی میں نہ کسی خارق عادت زلزلہ کا ذکر ہے اور نہ کسی خارق عادت مری یا طاعون کا۔ اِس صورت میں کوئی عقلمند ایسی پیشگوئیوں کو عظمت اور وقعت کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ مگر جس ملک کے لئے ہاں ممکن ہے کہ اصل پیشگوئیوں میں تحریف ہو گئی ہو جبکہ ایک انجیل کی بیسیوں انجیلیں بن گئی ہیں تو کسی عبارت میں تحریف ہونا کونسا ایسا امر ہے جو بعید از عقل ہو سکتا ہے مگر ہمارا موجودہ انجیلوں پر اعتراض ہے اور خدا نے ان انجیلوں کو محرف مبدل قرار دیکر ہمیں ان اعتراضوں کا موقعہ دیا ہے۔ منہ * یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح کی پیشگوئیوں میں جو انجیلوں میں پائی جاتی ہیں صرف معمولی اور نرم لفظ ہیں کسی شدید اور ہیبت ناک زلزلہ یا ہیبت ناک طاعون کا ان میں ذکر نہیں ہے مگر میری پیشگوئیوں میں ان دونوں واقعات کی نسبت ایسے لفظ ہیں جو ان کو خارق عادت قرار دیتے ہیں۔ منہ