نہیںؔ کہ تاوہ مسلمان ہو جائیں۔ بلکہ محض اِس غرض سے کہ خدا کے رسول کا مقابلہ کیا۔ اِس لئے وہ خدا کے نزدیک مستوجب سزا ہو گئے اور پانی کی طرح اُن کا خون زمین پر بہایا گیا۔ پس ظاہر ہے کہ اگر توحید کافی ہوتی تو یہودیوں کا کوئی جرم نہ تھا وہ بھی تو موحد تھے وہ محض انکار اور مقابلہ رسول کی وجہ سے کیوں خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل سزا ٹھہرے۔
(۳)سوال
جناب عالی۔ عبد الحکیم کو جو آپ نے خط تحریر فرمایا ہے اُس میں لکھا ہے کہ فطرتی ایمان ایک *** چیز ہے اِس کا مطلب بھی سمجھنے میں نہیں آیا۔
الجواب:۔ خلاصہ اور مد عامیری تحریر کا یہ ہے کہ جو ایمان خدا تعالیٰ کے رسول کے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوتا اور محض انسانی فطرت خدا تعالیٰ کے وجود کی ضرورت محسوس کرتی ہے جیسا کہ فلسفیوں کا ایمان ہے اس کا آخری نتیجہ اکثر *** ہی ہوتا ہے کیونکہ ایسا ایمان تاریکی سے خالی نہیں ہوتا اِس لئے وہ لوگ جلدی اپنے ایمان سے پھسل کر دہریہ بن جاتے ہیں پہلے تو صحیفہء فطرت اور قانونِ قدرت پر زور دیتے ہیں مگر چونکہ شمع رسالت کی روشنی ساتھ نہیں ہوتی جلد تاریکی میں پڑ کر گمراہ ہو جاتے ہیں۔ مبارک اور بے خطر وہ ایمان ہے جو خدا کے رسول کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ وہ ایمان صرف اس حد تک نہیں ہوتا کہ خدا کے وجود کی ایک ضرورت ہے بلکہ صدہا آسمانی نشان اُس کو اِس حد تک پہنچا دیتے ہیں کہ درحقیقت وہ خدا موجود ہے۔ پس اصل بات یہ ہے کہ خدا پر ایمان مستحکم کرنے کے لئے انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا مثل میخوں کے ہے اور خدا پر اُسی وقت تک ایمان قائم رہ سکتا ہے جب تک کہ رسول پر ایمان ہو اور جب رسول پرایمان نہ رہے تو خدا پر ایمان لانے میں بھی کوئی آفت آجاتی ہے اور خشک توحید انسان کو جلد گمراہی میں ڈالتی ہے اِسی واسطے مَیں نے کہا کہ فطرتی ایمان *** ہے یعنی جس کی بنیاد صرف صحیفۂ فطرت ہے اور جس کی بنا مجرد فطرت پر ہے اور رسول کی روشنی سے حاصل نہیں آخروہ *** خیال تک پہنچا دیتا ہے۔ غرض خدا کے رسول کو چھوڑ کر اور رسول کے معجزات کو چھوڑ کر محض فطرت کے لحاظ سے جس کا ایمان ہے