میں ؔ نے طاعون کی خبردی اور شدید زلزلوں سے اطلاع دی ہے وہ اس ملک کی حالت کے لحاظ سے درحقیقت عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں۔ کیونکہ اگر اس ملک کے صدہا سال کی تاریخ دیکھی جائے تب بھی ثابت نہیں ہوتا کہ کبھی اس ملک میں طاعون پڑی ہے چہ جائیکہ ایسی طاعون جس نے تھوڑے ہی عرصہ میں لاکھوں انسانوں کو ہلاک کر دیا چنانچہ طاعون کی نسبت میری پیشگوئی کے الفاظ یہ ہیں کہ ملک کا کوئی حصہ طاعون سے خالی نہیں رہے گا اور سخت تباہی آئے گی اور وہ تباہی زمانہ دراز تک رہے گی۔ اب کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ جیسا کہ اب پیشگوئی کے مطابق یہ سخت تباہیاں طاعون سے ظہور میں آئیں پہلے اس ملک میں کبھی ظہور میں آیا تھا۔ ہر گز نہیں۔ رہا زلزلہ وہ بھی میری طرف سے کوئی معمولی پیشگوئی نہیں تھی بلکہ پیشگوئی میں یہ الفاظ تھے کہ ایک حصہ ملک کا اس سے تباہ ہو جائے گا جیسا کہ ظاہر ہے کہ وہ تباہی جو اس زلزلہ سے کانگڑہ اور بھاگسو خاص جوالا مُکھی پر آئی۔ د۲۰۰۰وہزار برس تک اس کی نظیر نہیں ملتی کہ کبھی زلزلہ سے ایسا نقصان ہوا چنانچہ انگریز محققوں نے بھی یہی گواہی دی ہے۔ پس اِس صُورت میں میرے پر اعتراض کرنا محض جلدبازی ہے۔
(۵)سوال
جناب عالی نے متفرق طور پر بہت سے اشتہارات میں لکھا ہے کہ مذہب کی خرابی کی وجہ سے دنیا میں عذاب نازل نہیں ہوتا بلکہ شوخی اور شرارت اور مرسلین کے ساتھ استہزا کرنے سے عذاب آتا ہے۔ اب سان فرانسسکو وغیرہ میں جو زلزلے آئے ہیں جناب عالی نے اپنی تصدیق کا اُن کو نشان قرار دیا ہے۔ یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یہ زلزلے آپ کی تکذیب کی وجہ سے آئے ہیں۔
الجواب:۔ میں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ تمام زلزلے جو سان فرانسسکو وغیرہ مقامات میں آئے ہیں یہ محض میری تکذیب کی وجہ سے آئے ہیں کسی اور امر کا اِس میں دخل نہیں۔ ہاں میں کہتا ہوں کہ میری تکذیب اِن زلزلوں کے ظہور کا باعث ہوئی ہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے تمام نبی اِس بات پر متفق ہیں کہ عادت اللہ ہمیشہ سے اِس طرح پر جاری ہے کہ جب دنیا ہر ایک قسم کے گناہ کرتی ہے اور بہت سے گناہ ان کے جمع ہو جاتے ہیں تب اس زمانہ میں خدا اپنی طرف سے کسی کو مبعوث فرماتا ہے