ساتھ مقابلہ کرنے والے واجب القتل ہو چکے تھے اور پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن کو یہ رعایت دی ؔ گئی تھی کہ اگر مشرف باسلام ہو جائیں تو وہ سزا معاف ہو جائے گی اور پھر ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 3 ۱ الجزو نمبر۳ سورہ اٰل عمران۔ یعنی جو لوگ خدا تعالیٰ کی آیتوں سے منکر ہو گئے اُن کے لئے سخت عذاب ہے اور خدا غالب بدلہ لینے والا ہے۔ اب صاف ظاہر ہے کہ اِس آیت میں بھی منکروں کے لئے عذاب کا وعدہ ہے۔ لہٰذا ضرور تھا کہ اُن پر عذاب نازل ہوتا۔ پس خدا تعالیٰ نے تلوار کا عذاب اُن پر وارد کیا اور پھر ایک جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے3333 ۲ الجزو نمبر۶ سورۃ المائدۃ یعنی سوا اس کے نہیں کہ بدلہ ان لوگوں کا کہ جو خدا اور رسول سے لڑتے اور زمین پر فساد کے لئے دوڑتے ہیں یہ ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا سولی دئے جائیں یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف طرف سے کاٹے جائیں یا جلا وطن کرکے قید رکھے جائیں یہ رُسوائی اُن کی دُنیا میں ہے اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے پس اگر خدا تعالیٰ کے نزدیک ہمارے رسول کریم کی عدول حکمی اور اس کا مقابلہ کچھ چیز نہیں تھا تو ایسے منکروں کو جوموحد تھے (جیسا کہ یہودی) انکار اور مقابلہ کی وجہ سے اس قدر سخت سزا یعنی طرح طرح کے عذابوں سے موت کی سزا دینے کے لئے خدا تعالیٰ کی کتاب میں کیوں حکم لکھا گیا اور کیوں ایسی سخت سزائیں دی گئیں کیونکہ دونوں طرف موحد تھے اس طرف بھی اور اس طرف بھی اور کسی گروہ میں کوئی مُشرک نہ تھا اور باوجود اس کے یہودیوں پر کچھ بھی رحم نہ آیا اور اُن موحد لوگوں کو محض انکار اور مقابلہ رسول کی وجہ سے بُری طرح قتل کیا گیا یہاں تک کہ ایک دفعہ دس ہزار یہودی ایک ہی دِن میں قتل کئے گئے حالانکہ اُنہوں نے صرف اپنے دین کی حفاظت کے لئے انکار اور مقابلہ کیا تھا اور اپنے خیال میں پکے موحد تھے اور خدا کو ایک جانتے تھے۔
ہاں یہ بات ضرور یاد رکھو کہ بے شک ہزاروں یہودی قتل کئے گئے مگر اس غرض سے