ملحوظ ؔ تھے (۱) ایک تو بطور مدافعت یہ لڑائیاں تھیں کیونکہ جبکہ کفار نے حملہ کرکے تلوار کے ساتھ اسلام کو نابود کرنا چاہا تو بجُز اس کے کیا چارہ تھا کہ اپنی حفاظت کے لئے تلوار اُٹھائی جاتی۔ (۲) دوسری قرآن شریف میں ان لڑائیوں سے ایک زمانہ پہلے یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ جولوگ اس رسول کو نہیں مانتے خدا اُن پر عذاب نازل کرے گا۔ چاہے تو آسمان سے اور چاہے تو زمین سے اور چاہے تو بعض کی تلوار کا مزہ بعض کو چکھادے۔ اِسی طرح اس مضمون کی اور بھی پیشگوئیاں تھیں جو اپنے وقت پر پوری ہوئیں۔ اب سمجھنا چاہئیے کہ وہ خط جو میں نے عبد الحکیم خان کو لکھا تھا اس میں میرا یہی مطلب تھا کہ اگر رسول کا ماننا غیر ضرری ہے تو خدا تعالیٰ نے اِس رسول کے لئے یہ اپنی غیرت کیوں دکھلائی کہ کفار کے خون کی نہریں چلادیں۔ یہ سچ ہے کہ اسلام کے لئے جبر نہیں کیا گیا مگر چونکہ قرآن شریف میں یہ وعدہ موجود ہے کہ جو لوگ اس رسول کے مکذّب اور منکر ہیں وہ عذاب سے ہلاک کئے جائیں گے۔ اِس لئے اُن کے عذاب کیلئے یہ تقریب پیش آئی کہ خود اُن کافروں نے لڑائیوں کے لئے سبقت کی تب جن لوگوں نے تلوار اُٹھائی وہ تلوار ہی سے مارے گئے۔ اگر رسول کا انکار کرنا خدا کے نزدیک ایک سہل امر تھا اور باوجود انکار کے نجات ہو سکتی تھی تو پھر اس عذاب کے نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی جو ایسے طور سے نازل ہوا جس کی دنیا میں نظیرنہیں پائی جاتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔33 3 ۱؂ یعنی اگر یہ رسول جھوٹا ہے تو خود تباہ ہو جائے گا لیکن اگر سچا ہے تو تمہاری نسبت جو عذاب کے بعض وعدے کئے گئے ہیں۔ وہ پورے ہوں گے ۔* اب غور کا مقام ہے کہ اگر خدا کے رسول پر ایمان لانا غیر ضروری ہے تو ایمان نہ لانے پر عذاب کا کیوں وعدہ دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ جبر سے اپنا دین منوانا اور تلوار سے مسلمان کرنا یہ اور امر ہے مگر اُس شخص کو سزا دینا جو سچے رسول کی نافرمانی کرتا ہے اور مقابلہ سے پیش آتا ہے اور اُس کو دُکھ دیتا ہے یہ اور بات ہے۔ سزا دینے کے لئے یہ امرشرط نہیں ہے کہ کوئی شخص مسلمان ہو جائے بلکہ انکار کے * بعض کا لفظ اس لئے اختیار کیا گیا کہ وعید کی پیشگوئیوں میں یہ ضروری نہیں کہ وہ سب کی سب پوری ہوجائیں بلکہ بعض کا انجام معافی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔منہ