اِسی سے معلوم ہو سکتے ہیں۔ اِسی وجہ سے اِس اُمّت کے باکمال صُوفی اِس پوشیدہ حقیقت تک پہنچ گئے ہیں کہ انسانی فطرتوں کے کمال کا دائرہ اِسی اُمّت نے پُورا کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ جس طرح ایک چھوٹا سا تُخم زمین میں بویا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ وہ اؔ پنے کمال کو پہنچ کر ایک بڑا درخت بن جاتا ہے۔ اِسی طرح انسانی سلسلہ نشوو نما پاتا گیا اور انسانی قوتیں اپنے کمال میں بڑھتی گئیں یہاں تک کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں وہ اپنے کمال تام تک پہنچ گئیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ چونکہ مَیں ایک ایسے نبی کا تابع ہوں جو انسانیت کے تمام کمالات کا جامع تھا اور اس کی شریعت اکمل اور اتم تھی اور تمام دنیا کی اصلاح کے لئے تھی اِس لئے مجھے وہ قوتیں عنایت کی گئیں جو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ضروری تھیں تو پھر اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اُس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کو قوت دی۔ وھٰذا تحدیث نعمت اللّٰہ ولا فخر۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ آتے تو اس کام کو انجام نہ دے سکتے اور اگر قرآن شریف کی جگہ توریت نازل ہوتی تو اس کام کو ہر گز انجام نہ دے سکتی جو قرآن شریف نے دیا۔ انسانی مراتب پردۂ غیب میں ہیں۔ اس بات میں بگڑنا اور مُنہ بنانا اچھا نہیں۔ کیا جس قادر مطلق نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا وہ ایسا ہی ایک اور انسان یا اس سے بہتر پیدا نہیں کر سکتا ؟* اگر قرآن شریف کی کسی آیت سے ثابت ہوتا ہے تو وہ آیت پیش کرنی چاہئیے۔ سخت مردود وہ شخص ہوگا جو قرآنی آیت سے انکار کرے ورنہ میں اس پاک وحی کے مخالف کیونکر خلاف واقعہ کہہ سکتا ہوں جو قریباً تیئیس۲۳ برس سے مجھ کو
* خدائے تعالیٰ کے کاموں کا کوئی انتہانہیں پاسکتا۔ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام عظیم الشان نبی گذرے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے توریت دی اور جن کی عظمت اور وجاہت کی وجہ سے بلعم باعور بھی اُن کا مقابلہ کرکے تحت الثریٰ میں ڈالا گیا اور کُتے کے ساتھ خدا نے اس کی مشابہت دی وہی موسیٰ ہے جس کو ایک بادیہ نشین شخص کے علوم روحانیہ کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا اور اُن غیبی اسرار کا کچھ پتہ نہ لگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔33۔۱منہ