سے زیادہ اُن کو نازل نہیں کیا کرتے۔ پس یہ حکمت الٰہیہ کے برخلاف ہے کہ ایک نبی کو اُمّت کی اِصلاح کے لئے وہ علوم دئے جائیں جن علوم سے وہ اُمّت مناسبت ہی نہیں رکھتی بلکہ حیوانات میں بھی خدا تعالیٰ کا یہی قانون قدرت پایا جاتا ہے۔ مثلاً گھوڑے کو اس غرض کیلئے خدا نے پیدا کیا ہے کہ ؔ قطع مسافت میں عمدہ کام دے اور ہر ایک میدان میں دوڑنے سے اپنے سوار کا حامی اور مددگار ہو اِس لئے ایک بکری ان صفات میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی کیونکہ وہ اس غرض کے لئے پیدا نہیں کی گئی۔ ایسا ہی خدا نے پانی کو پیاس بجھانے کے لئے پیدا کیا ہے اِس لئے آگ اُس کے قائم مقام نہیں ہو سکتی۔ انسانی سرشت بہت سی شاخوں پر مشتمل ہے اور کئی مختلف قوتیں خدا نے اُس میں رکھی ہیں۔ لیکن انجیل نے صرف ایک ہی قوت عفو اور درگذر پر زور دیا ہے گویا انسانی درخت کی صدہا شاخوں میں سے صرف ایک شاخ انجیل کے ہاتھ میں ہے۔ پس اِس سے حضرت عیسیٰ کی معرفت کی حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ وہ کہاں تک ہے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت انسانی فطرت کے انتہا تک پہنچی ہوئی ہے اِس لئے قرآن شریف کامل نازل ہوا۔ اور یہ کچھ بُرا ماننے کی بات نہیں اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ 3 ۱ یعنی بعض نبیوں کو ہم نے بعض پر فضیلت دی ہے۔ اورہمیں حکم ہے کہ تمام احکام میں اخلاق میں عبادات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں اگر ہماری فطرت کو وہ قوتیں نہ دی جاتیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات کو ظلّی طور پر حاصل کر سکتیں تو یہ حکم ہمیں ہر گز نہ ہوتا کہ اس بزرگ نبی کی پیروی کرو کیونکہ خدا تعالیٰ فوق الطاقت کوئی تکلیف نہیں دیتا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے3 ۲ اور چونکہ وہ جانتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جامع کمالات تمام انبیاء کے ہیں اس لئے اُس نے ہماری پنج وقتہ نماز میں ہمیں یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا کہ3۔3۳ یعنی اے ہمارے خدا ہم سے پہلے جس قدر نبی اور رسول اور صدیق اور شہید گذر چکے ہیں اُن سب کے کمالات ہم میں جمع کر۔ پس اِس اُمت مرحومہ کی فطرت عالیہ کا اِس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس کو حکم ہوا ہے کہ تمام گذشتہ متفرق کمالات کو اپنے اندر جمع کرو۔ یہ تو عام طور پر حکم ہے اور خواص کے مدارج خاصّہ