تسلی دے رہی ہے اور ہزار ہا خدا کی گواہیاں اور فوق العادت نشان اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ خداتعالیٰ کے کام مصلحت اور حکمت سے خالی نہیں۔ اُس نے دیکھا کہؔ ایک شخص کو محض بے وجہ خدا بنایا گیا ہے جس کی چالیس کروڑ آدمی پرستش کر رہے ہیں۔ تب اُس نے مجھے ایسے زمانہ میں بھیجا کہ جب اس عقیدہ پر غلوّانتہا تک پہنچ گیا تھا اور تمام نبیوں کے نام میرے نام رکھے مگر مسیح ابن مریم کے نام سے خاص طور پر مجھے مخصوص کرکے وہ میرے پر رحمت اور عنایت کی گئی جو اُس پر نہیں کی گئی تا لوگ سمجھیں کہ فضل خدا کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اگر میں اپنی طرف سے یہ باتیں کرتا ہوں تو جھوٹا ہوں لیکن اگر خدا میری نسبت اپنے نشانوں کے ساتھ گواہی دیتا ہے تو میری تکذیب تقویٰ کے بر خلاف ہے اور جیسا کہ دانیال نبی نے بھی لکھا ہے میرا آنا خدا کے کامل جلال کے ظہور کا وقت ہے اور میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے۔ اور خدا اس وقت وہ نشان دکھائے گا جو اُس نے کبھی دکھائے نہیں گویا خدا زمین پر خود اُتر آئے گا جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3 ۱؂ یعنی اُس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا یعنی انسانی مظہر کے ذریعہ سے اپنا جلال ظاہر کرے گا اور اپنا چہرہ دکھلائے گا۔ کُفر اور شرک نے بہت غلبہ کیا اور وہ خاموش رہا اور ایک مخفی خزانہ کی طرح ہو گیا۔ اب چونکہ شرک اور انسان پرستی کا غلبہ کمال تک پہنچ گیا اور اسلام اس کے پاؤں کے نیچے کُچلا گیا اس لئے خدا فرماتا ہے کہ مَیں زمین پر نازل ہوں گا اور وہ قہری نشان دِکھلاؤں گا کہ جب سے نسل آدم پیدا ہوئی ہے کبھی نہیں دِکھلائے۔ اِس میں حکمت یہ ہے کہ مدافعت بقدر حملہء دشمن ہوتی ہے پس جس قدر انسان پرستوں کو شرک پر غلو ہے وہ غلو بھی انتہا تک پہنچ گیا ہے۔ اس لئے اب خدا آپ لڑے گا وہ انسانوں کو کوئی تلوار نہیں دے گا اور نہ کوئی جہاد ہوگا ہاں اپنا ہاتھ دِکھلائے گا۔ یہودیوں کا یہ عقید ہے کہ دو مسیح ظاہر ہوں گے اور آخری مسیح (جس سے اِس زمانہ کا مسیح مُراد ہے) پہلے مسیح سے افضل ہوگا اور عیسائی ایک ہی مسیح کے قائل ہیں مگر کہتے ہیں کہ وہی مسیح ابن مریم جو پہلے ظاہر ہوا آمد ثانی میں بڑی قُوّت اور جلال کے ساتھ ظاہر ہوگا اور دنیا کے فرقوں کا فیصلہ کرے گا اور کہتے ہیں کہ اس قدر جلال کے ساتھ ظاہر ہوگا کہ آمد اوّل کو اِس سے کچھ نسبت نہیں۔