کہ اس رسول کے ادنیٰ خادم اسرائیلی مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہیں۔ جس شخص کو اس فقرہ سے غیظ و غضب ہوا اُس کو اختیار ہے کہ وہ اپنے غیظ سے مر جائے ۔ مگر خدا نے جو چاہا ہے کیا اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کیا انسان کا مقدور ہے کہ وہ اعتراض کرے کہ ایسا تونے کیوں کیا۔
اِسؔ جگہ یہ بھی یاد رہے کہ جب کہ مجھ کو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ایک خدمت سپرد کی گئی ہے۔ اِس وجہ سے کہ ہمارا آقا اور مخدوم تمام دنیا کے لئے آیا تھا تو اُس عظیم الشان خدمت کے لحاظ سے مجھے وہ قوتیں اور طاقتیں بھی دی گئی ہیں جو اس بوجھ کے اُٹھانے کے لئے ضروری تھیں اور وہ معارف اور نشان بھی دئے گئے ہیں جن کا دیا جانا اتمام حجت کے لئے مناسب وقت تھا۔ مگر ضروری نہ تھا کہ حضرت عیسیٰ کو وہ معارف اور نشان دیئے جاتے ۔* کیونکہ اُس وقت اُن کی ضرورت نہ تھی اِس لئے حضرت عیسیٰ کی سرشت کو صرف وہ قوتیں اور طاقتیں دی گئیں جو یہودیوں کے ایک تھوڑے سے فرقہ کی اصلاح کے لئے ضروری تھیں اور ہم قرآن شریف کے وارث ہیں جس کی تعلیم جامع تمام کمالات ہے اور تمام دنیا کے لئے ہے۔ مگر حضرت عیسیٰ صرف توریت کے وارث تھے جس کی تعلیم ناقص اور مختص القوم ہے اِسی وجہ سے انجیل میں اُن کو وہ باتیں تاکید کے ساتھ بیان کرنی پڑیں جو توریت میں مخفی اور مستور تھیں لیکن قرآن شریف سے ہم کوئی امر زیادہ بیان نہیں کر سکتے کیونکہ اُس کی تعلیم اتم اور اکمل ہے اور وہ توریت کی طرح کسی انجیل کا محتاج نہیں۔
پھر جس حالت میں یہ بات ظاہر اور بد یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اسی قدر روحانی قوتیں اور طاقتیں دی گئی تھیں جو فرقہ یہود کی اصلاح کے لئے کافی تھیں تو بلا شبہ اُن کے کمالات بھی اُسی پیمانہ کے لحاظ سے ہوں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے3 3۔۱ یعنی ہر ایک چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں مگر ہم قدر ضرورت
* اگر کوئی کہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مُردے زندہ کرتے تھے یہ کتنا بڑا نشان اُن کو دیا گیا۔ اس کا یہ جواب ہے کہ واقعی طور پر مُردہ کا زندہ ہونا قرآن شریف کی تعلیم کے بر خلاف ہے ہاں جو مُردہ کے طور پر بیمار تھے اگر اُن کو زندہ کیا تو اس جگہ بھی ایسے مُردے زندہ ہو چکے ہیں اور پہلے نبی بھی کرتے رہے ہیں جیسے الیاس نبی۔ مگر عظیم الشان نشان اور ہیں جن کو خدا دکھلا رہا ہے اور دِکھلائے گا۔ منہ