ہو ؔ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اقرار کر لیا۔ تب خدا نے فرمایا کہ اب اپنے اقرار کے گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ اِس بات کا گواہ ہوں۔ اب ظاہر ہے کہ انبیاء تو اپنے اپنے وقت پر فوت ہو گئے تھے یہ حکم ہر نبی کی اُمت کے لئے ہے کہ جب وہ رسول ظاہر ہو تو اس پر ایمان لاؤ ورنہ مواخذہ ہوگا۔ اب بتلاویں میاں عبد الحکیم خان نیم ملّا خطرہ ایمان! کہ اگر صرف توحید خشک سے نجات ہو سکتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ ایسے لوگوں سے کیوں مؤاخذہ کرے گا جو گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتے مگر توحید باری کے قائل ہیں۔ علاوہ اِس کے توریت استثناء باب۱۸ میں ایک یہ آیت موجود ہے کہ جو شخص اُس آخر الزمان نبی کو نہیں مانے گا میں اُس سے مطالبہ کروں گا۔ پس اگر صرف توحید ہی کافی ہے تو یہ مطالبہ کیوں ہوگا؟ کیا خدا اپنی بات کو بھول جائے گا؟ اور میں نے بقدر کفایت قرآن شریف میں سے یہ آیات لکھی ہیں ورنہ قرآن شریف اِس قسم کی آیات سے بھرا ہوا ہے چنانچہ قرآن شریف انہیں آیات سے شروع ہوتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ 3۔ 3۱؂ * یعنی اے ہمارے خدا ہمیں رسولوں اور نبیوں کی راہ پر چلا جن پر تیرا انعام اور اکرام ہوا ہے۔ ہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب انسان سچے دین پر ہو تو اعمال صالحہ بجا لانے سے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام پاتا ہے۔ اِسی طرح سنّتِ الٰہی واقع ہے کہ سچے دین والا صرف اس حد تک ٹھہرایا نہیں جاتا جس حد تک وہ اپنی کوشش سے چلتا ہے اور اپنی سعی سے قدم رکھتا ہے بلکہ جب اس کی کوشش حد تک پہنچ جاتی ہے اور انسانی طاقتوں کا کام ختم ہو جاتا ہے تب عنایت الٰہی اُسکے وجود میں اپنا کام کرتی ہے اور ہدایت الٰہی اس مرتبہ تک اس کو علم اور عمل اور معرفت میں ترقی بخشتی ہے جس مرتبہ تک وہ اپنی کوشش سے نہیں پہنچ سکتا تھا جیسا کہ ایک دوسرے مقام میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 3 3 ۲؂ یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ اختیار کرتے ہیں اور جو کچھ اُن سے اور اُن کی قوتوں سے ہو سکتا ہے بجا لاتے ہیں۔ تب عنایت حضرت احدیّت اُن کا ہاتھ پکڑتی ہے اور جو کام اُن سے نہیں ہو سکتا تھا وہ آپ کر دِکھلاتی ہے۔منہ