ابؔ اِس آیت سے کہ جو پنج وقت نماز میں پڑھی جاتی ہے ظاہر ہے کہ خدا کا روحانی انعام جو معرفت اور محبت الٰہی ہے صرف رسولوں اور نبیوں کے ذریعہ سے ہی ملتا ہے نہ کسی اور ذریعہ سے ہمیں معلوم نہیں کہ میاں عبد الحکیم خان نماز بھی پڑھتے ہیں یا نہیں اگر پڑھتے ہوتے تو ممکن نہ تھا کہ اِن آیات کے معنوں سے بے خبر رہتے مگر جب اُن کے نزدیک صرف توحید ہی کافی ہے تو پھر نماز کی کیا ضرورت ہے۔ نماز تو رسول کا ایک طریق عبادت بتلایا ہوا ہے جس کو رسول کی متابعت سے کچھ غرض نہیں اُس کو نماز سے کیا غرض ہے۔ اس کے نزدیک تو موحد برہمو بھی نجات یافتہ ہیں کیا وہ نماز پڑھتے ہیں۔ اور جب کہ اُس کے نزدیک ایک شخص اسلام سے مرتد ہو کر بھی بوجہ اپنی خشک توحید کے نجات پا سکتا ہے* اور ایسا آدمی بھی نجات پا سکتا ہے جو یہود یا نصاریٰ یا آریوں میں سے مو ّ حد ہے گو اسلام کا مکذب اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے تو پھر اُس کی یہی رائے ہوگی کہ نماز لا حاصل اور روزہ بے سُود ہے مگر ایک مومن کے لئے تو صرف یہی آیت کافی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ روحانی دولت کے مالک صرف انبیاء اور رُسل ہیں اور ہر ایک کو اُن کی پیروی سے حصہ ملتا ہے۔ پھر سورۂ بقرہ کے شروع میں یہ آیات ہیں۔ 3 3۔33۔ 33 3۔33۔ ۱؂ ترجمہ۔ یہ کتاب جو شکوک و شبہات سے پاک ہے متقیوں کے لئے ہدایت نامہ ہے اور متقی وہ لوگ ہیں جو خدا پر (جس کی ذات مخفی در مخفی ہے) ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور اپنے مالوں میں سے خدا کی راہ میں کچھ دیتے اور اُس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تیرے پر نازل ہوئی * عبد الحکیم خان کے نزدیک جہاں تک اُس کی عبارت سے سمجھا جاتا ہے ارتداد کے لئے یہ بھی ایک عذر ہے کہ جس شخص کو اپنی رائے میں اسلام کی سچائی کے کافی دلائل نہیں ملے وہ اسلام سے مرتد ہو کربھی نجات پا سکتا ہے کیونکہ اسلام کی حقانیت پر اُس کو تسلی حاصل نہیں ہوئی مگر اس کو بیان کرنا چاہئیے تھا کہ کس حد تک اتمام حجت اس کے نزدیک ہے۔منہ