(۱۴) قولہ تعالٰی۔33 33 ۱؂ (الجزو نمبر ۲۶ سورۃ محمد) ترجمہؔ ۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اور وہ کلام جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اس پر ایمان لائے اور وہی حق ہے ایسے لوگوں کے خدا گناہ بخش دے گا اور اُن کے دلوں کی اصلاح کرے گا۔ اب دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی وجہ سے کس قدر خدا تعالیٰ اپنی خوشنودی ظاہر فرماتا ہے کہ اُن کے گناہ بخشتا ہے اور اُن کے تزکیہ نفس کا خود متکفل ہوتا ہے۔ پھر کیسا بدبخت وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں اور غرور اور تکبر سے اپنے تئیں کچھ سمجھتا ہے۔ سعدیؒ نے سچ کہا ہے:۔ محال ست سعدی کہ راہِ صفا برد مہر آن شاہ سوئے بہشت توان رفت جُز درپئے مصطفٰے حرام است بر غیر بُوئے بہشت (۱۵) قولہ تعالٰی۔333 ۲؂ (الجزو نمبر ۱۰ سورۃ توبہ) ترجمہ ۔ کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ جو شخص خدا اور رسول کی مخالفت کرے خدااُس کو جہنم میں ڈالے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا یہ ایک بڑی رُسوائی ہے۔ اب بتلاویں میاں عبد الحکیم خان کہ اُن کی کیا رائے ہے۔ کیا خدا کے اِس حکم کو قبول کریں گے یا بہادری سے اِن آیتوں کے وعید کو اپنے سر پر لے لیں گے۔ (۱۶) قولہ تعالٰی۔33 33333 ۳؂ (الجزونمبر ۳۱۷) ترجمہ۔ اور یاد کر جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں گا۔ اور پھر تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا۔ تمہیں اُس پر ایمان لانا ہوگا اور اُس کی مدد کرنی ہوگی اور کہا کیا تم نے اقرار کر لیا اور اس عہد پر استوار