تمہاری بہتری اِسی میں ہے اور اگر تم کفر اختیار کرو تو خدا کو تمہاری کیاؔ پروا ہے زمین و آسمان سب اُسی کا ہے اور سب اُس کی اطاعت کر رہے ہیں اور خدا علیم اور حکیم ہے۔ (۱۱) قولہ تعالٰی۔33333 ۱؂ (الجزو نمبر۲۹ سورۃ الملک) ترجمہ۔ اور جب دوزخ میں کوئی فوج کافروں کی پڑے گی تو جو فرشتے دوزخ پر مقرر ہیں وہ دوزخیوں کو کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی نذیر نہیں آیا تھا وہ کہیں گے کہ ہاں آیا تو تھا مگر ہم نے اُس کی تکذیب کی اور ہم نے کہا کہ خدا نے کچھ نہیں اُتارا۔ اب دیکھو ان آیات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دوزخی دوزخ میں اس لئے پڑیں گے کہ وہ وقت کے نبیوں کو قبول نہیں کریں گے۔ (۱۲) قولہ تعالٰی۔333 ۲؂ (الجزونمبر ۲۶ سورۃ حجرات) ترجمہ۔ سوا اس کے نہیں کہ مومن وہ لوگ ہیں جو خدا اور رسول پر ایمان لائے پھر بعد اس کے ایمان پر قائم رہے اور شکوک و شبہات میں نہیں پڑے دیکھو ان آیات میں خدا تعالیٰ نے حصر کر دیا ہے کہ خدا کے نزدیک مومن وہی لوگ ہیں کہ جو صرف خدا پر ایمان نہیں لاتے بلکہ خدا اور رسول دونوں پر ایمان لاتے ہیں پھر بغیر ایمان بالرسول کے نجات کیونکر ہو سکتی ہے اور بغیر رسول پر ایمان لانے کے صرف توحید کس کام آسکتی ہے۔ (۱۳) قولہ تعالٰی۔333 ۳؂ (الجزونمبر ۱۰ سورۃ توبہ) ترجمہ۔ یعنی اس بات کا سبب جو کفار کے صدقات قبول نہیں کئے جاتے صرف یہ ہے کہ وہ خدا اور اُس کے رسول سے منکر ہیں۔ اب دیکھو ان آیات سے صاف ظاہرہے کہ جو لوگ رسول پرایمان نہیں لاتے اُن کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔ خداان کو قبول نہیں کرتا۔ اور پھر جب اعمال ضائع ہوئے تو نجات کیونکر ہوگی ۔ یہتمام آیات اُن لوگوں کے متعلق ہیں جنہوں نے رسول کے وجود پر اطلاع پائی اور رسول کی دعوت ان کو پہنچ گئی اور جو لوگ رسول کے وجود سے بالکل بے خبر رہے اور نہ ان کو دعوت پہنچی اُن کی نسبت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اُن کے حالات کا علم خدا کو ہے اُن سے وہ۔ وہ معاملہ کرے گا جو اُس کے رحم اور انصاف کا مقتضاء ہے۔منہ