خدا ایسے کافروں کا خودد شمن ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص توحید خشک کا توقائل ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہؔ وسلم کا مکذب ہے وہ درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے لہٰذا بموجب منشاء اس آیت کے خدا اُس کا دشمن ہے اور وہ خدا کے نزدیک کافر ہے تو پھر اس کی نجات کیونکر ہو سکتی ہے۔
(۴) قولہ تعالٰی۔ 33333 ۱ (الجزو نمبر ۵ سورۃ نساء)
(ترجمہ) اے لوگو جو ایمان لائے ہو خدا پر ایمان لاؤ۔ اور اُس کے رسول پر اور اس کی اس کتاب پر جو اُس کے رسول پر نازل ہوئی ہے یعنی قرآن شریف پر اور اُس کتاب پر ایمان لاؤ جو پہلے نازل ہوئی۔ یعنی توریت وغیرہ پر۔ اور جو شخص خدا پر اور اُس کے فرشتوں پر اور اُسکے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لائے گا وہ حق سے بہت دور جا پڑا یعنی نجات سے محروم رہا۔
(۵) قولہ تعالٰی۔ 3 333۲ (الجزو نمبر۲۲ سورۃ احزاب)
(ترجمہ) کسی مومن یا مومنہ کوجائز نہیں ہے کہ جب خدا اور اُس کا رسول کوئی حکم کرے تو ان کو اس حکم کے ردّ کرنے میں اختیار ہو۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ حق سے بہت دُور جا پڑا ہے یعنی نجات سے بے نصیب رہا۔ کیونکہ نجات اہل حق کے لئے ہے۔
(۶) قولہ تعالٰی۔ 333 ۳ (الجزو نمبر۴ سورۃ نساء)
(ترجمہ) جو شخص خدا اور رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدوں سے باہر ہو جائے خدا اُس کو جہنم میں داخل کرے گا اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہے گا اور اُس پر ذلیل کرنے والا عذاب نازل ہوگا۔
اب دیکھو کہ رسول سے قطع تعلق کرنے میں اس سے بڑھ کر اور کیا وعید ہوگا کہ خدائے عزو جل فرماتا ہے کہ جو شخص رسول کی نافرمانی کرے اُس کے لئے دائمی جہنم کا وعدہ ہے۔ مگرمیاں عبد الحکیم