ایمان لایا جائے اور اُن کی اطاعت کی جائے میسر نہیں آسکتا اور صرف توحید خشک بجز اطاعت رسوؔ ل کے کچھ چیز نہیں بلکہ اُس مردہ کی طرح ہے جس میں روح نہیں۔ اب یہ بیان کرنا رہ گیا کہ کیا قرآن شریف نے ہمارے بیان کے مطابق انسانی نجات کو اطاعت رسول کے ساتھ وابستہ فرمایا ہے یا اُس کے بر خلاف قرآنی تعلیم ہے۔ سو اس حقیقت کے سمجھانے کے لئے ہم آیاتِ ذیل پیش کرتے ہیں۔
(۱) قولہ تعالٰی۔ 3 ۔۱ الجزو نمبر۱۸ سورۃ نور (ترجمہ)کہہ خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ اور یہ مسلّم اور بد یہی امر ہے کہ خدا کے احکام سے تخلف کرنا معصیت اور موجب دخول جہنم ہے اور اس مقام میں جس طرح خدا اپنی اطاعت کیلئے حکم فرماتا ہے۔ ایسا ہی رسول کی اطاعت کے لئے حکم فرماتا ہے۔ سو جو شخص اُس کے حکم سے مُنہ پھیرتا ہے وہ ایسے جُرم کا ارتکاب کرتا ہے جس کی سزا جہنم ہے۔
(۲) قولہ تعالٰی۔ 333 ۲ (الجز و نمبر ۲۶ سورۃ حجرات)
(ترجمہ) اے ایمان والو خدا اور رسول کے حکم سے بڑھ کر کوئی بات نہ کرو یعنی ٹھیک ٹھیک احکامِ خدا اور رسول پر چلو اور نافرمانی میں خدا سے ڈرو۔ خدا سنتا بھی ہے اور جانتا بھی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص محض اپنی خشک توحید پر بھروسہ کرکے (جو دراصل وہ توحید بھی نہیں) رسول سے اپنے تئیں مستغنی سمجھتا ہے اور رسول سے قطع تعلق کرتا ہے اور اس سے بالکل اپنے تئیں علیحدہ کر دیتا ہے اور گستاخی سے قدم آگے رکھتا ہے۔ وہ خدا کا نافرمان ہے اور نجات سے بے نصیب۔ قولہ تعالٰی۔ 3ٖ3 3 ۲ (الجزو نمبر۱ سُورۃ بقرہ) (۳)
(ترجمہ) یعنی جو شخص خدا اور اُسکے فرشتوں اور اس کے پیغمبروں اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو