کہتے ہیں کہ جو شخص نبی کریم کا مکذب اور نافرمان ہو۔ اگروہ توحید پر قائم ہو تو وہ بلاشبہ بہشت میں جائےؔ گا۔ مجھے معلوم نہیں کہ اُن کے پیٹ میں کس قسم کی توحید ہے کہ باوجود نبی کریم کی مخالفت اور نافرمانی کے جو توحید کا سرچشمہ ہے بہشت تک پہنچا سکتی ہے۔ *** اللہ علی الکاذبین۔
(۷) قولہ تعالٰی۔33۱ (الجزو نمبر۵ سورۃ نساء)
(ترجمہ) یعنی ہر ایک نبی ہم نے اِس لئے بھیجا ہے کہ تا خدا کے حکم سے اُسکی اطاعت کی جائے۔
اب ظاہر ہے کہ جبکہ بمنشاء اس آیت کے نبی واجب الاطاعت ہے۔ پس جو شخص نبی کی اطاعت سے باہر ہو وہ کیونکر نجات پا سکتا ہے۔
(۸) قولہ تعالٰی۔ 33 3۔333 ۲ (الجزونمبر۳اٰ ل عمران)
(ترجمہ) انکو کہہ کہ اگر خدا سے تم محبت کرتے ہو۔ پس آؤ میری پیروی کرو۔ تا خدا بھی تم سے محبت کرے اور تمہارے گنہ بخش دے اور خدا غفورو رحیم ہے۔ اُن کو کہہ کہ خدا اور رسول کی اطاعت کرو پس اگر وہ اطاعت سے مُنہ پھیر لیں تو خدا کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔ اِن آیات سے صاف طور پر ظاہرہوتا ہے کہ گناہوں کی مغفرت اور خدا تعالیٰ کا پیار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے وابستہ ہے۔ اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے وہ کافر ہیں۔
(۹) قولہ تعالٰی۔ 33 33 3۔33۔3 333 ۳ (الجزو نمبر۶ سورۃ نساء)
(ترجمہ) وہ لوگ جو خدا اور رسول سے منکر ہیں اور ارادہ رکھتے ہیں کہ خدا اور اس کے رسولوں میں تفرقہ ڈال دیں اور کہتے ہیں کہ بعض پر ہم ایمان لائیں گے اور بعض پر نہیں۔ یعنی صرف خدا کا ماننا یا