چراغ دین سے بھی بہت بڑھ کر ہے اور گالیاں دینے میں بھی اُس سے زیادہ مشق ہے اور افترا میں اُس سے بڑھ کر قدم ہے۔ اس مشتعل طبع مُشتِ خاک کی ارتداد سے بھی ہمارے مخالف مولویوں کو بہت خوشی ہوئی۔ گویا ایک خزانہ مل گیا۔ مگر اُن کو چاہئے کہ اتنا خوشؔ نہ ہوں اور پہلے چراغ دین کو یاد کریں۔ وہ خدا جس نے ہمیشہ اُن کو ایسی خوشیوں سے نامراد رکھا ہے وہی خدا اب بھی ہے۔ اور اس کی پیشگوئی نے جیسا کہ پہلے چراغ دین کے انجام کی خبر دی تھی اسی طرح اُس علیم خبیر نے اس دوسرے چراغ دین یعنی عبد الحکیم کے انجام سے خبر دی ہے پھر خوشی کا کیا مقام ہے ذرا صبر کریں اور انجام دیکھیں۔ اور پھر تعجب کا مقام ہے کہ ایک نادان مرتد کے ارتداد سے اِس قدر کیوں خوشی کی جاتی ہے۔ خدا تعالیٰ کا ہم پر فضل ہے کہ اگر ایک بد قسمتی سے مرتد ہوتا ہے تو اس کی جگہ ہزار آتا ہے۔
اور پھر ماسوا اِس کے کیا کسی مرتد کے ارتداد سے یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ وہ سلسلہ جس میں سے یہ مرتد خارج ہوا حق نہیں ہے۔ کیا ہمارے مخالف علماء کو خبر نہیں کہ کئی بد بخت حضرت موسیٰ کے زمانہ میں اُن سے مر تد ہو گئے تھے۔ پھر کئی لوگ حضرت عیسیٰ سے مرتد ہوئے اور پھر کئی بد بخت اور بد قسمت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں آپ سے مرتد ہو گئے چنانچہ مسیلمہ کذاب بھی مرتدین میں سے ایک تھا۔ پس عبدالحکیم مرتد کے ارتداد سے خوش ہونا اور اس کو سلسلہ حقّہ کے بطلان کی ایک دلیل قرار دینا ان لوگوں کا کام ہے جو محض نادان ہیں۔ ہاں یہ لوگ چند روز کے لئے ایک جھوٹی خوشی کا موجب ضرور ہو جاتے ہیں۔ مگر وہ خوشی جلد زائل ہو جاتی ہے۔
یہ وہی عبد الحکیم خان ہے جس نے اپنی کتاب میں میرا نام لیکر یہ لکھا ہے کہ ایک شخص اُن کے دعویٰ مسیح موعود ہونے سے مُنکرتھا تب مجھ کو خواب میں دکھا یا گیا کہ یہ منکر طاعون سے مر جائے گا۔ چنانچہ وہ طاعون سے مر گیا۔ مگر اب خود گُستاخی سے مرتد ہو کر گالیاں دیتا اور سخت بد زبانی کرتا اور جھوٹی تہمتیں لگاتا ہے کیا اب طاعون کا وقت جاتا رہا؟!
یہ تو ہم بیان کر چکے کہ وہ امر جس کا نام توحید ہے اور جو مدارِ نجات ہے اور جو شیطانی توحید سے ایک علیحدہ امر ہے وہ بجز اس کے کہ وقت کے نبی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر