پھر ایک اور خوشی کا موقعہ ہمارے مخالفوں کو پیش آیا کہ جب چراغ دین جموں والا جو میرا مرید تھا۔ مرتد ہو گیا اور بعد ارتداد میں نے رسالہ دافع البلاء و معیار اہل الاصطفاء میں اُسکی نسبت خدا تعالیٰ سے یہ الہام پاکر شائع کیا کہ وہ غضب الٰہی میں مبتلا ہو کر ہلاک کیا جائے گا تو بعض مولویوں نے محض میری ضد سے اُس کی رفاقت اختیار کی اور اُس نے ایک کتاب بنائی جس کا نام منارۃ المسیح رکھاؔ اور اس میں مجھے دجال قرار دیا اور اپنا یہ الہام شائع کیا کہ میں رسول ہوں اور خدا کے مرسلوں میں سے ایک مرسل ہوں اور حضرت عیسیٰ نے مجھے ایک عصا دیا ہے کہ تا میں اس عصا سے اس دجال کو (یعنی مجھ کو) قتل کروں چنانچہ منارۃ المسیح میں قریب نصف کے یہی بیان ہے کہ یہ شخص دجال ہے اور میرے ہاتھ سے تباہ ہوگا۔ اور بیان کیا کہ یہی خبر مجھے خدا نے اور عیسیٰ نے بھی دی ہے مگر آخر کا رجو ہوا لوگوں نے سنا ہوگا کہ یہ شخص ۴؍اپریل۱۹۰۶ء کو مع اپنے دونوں بیٹوں کے طاعون سے فوت ہو کر میری پیشگوئی کی تصدیق کر گیا اور بڑی نومیدی سے اُس نے جان دی اور مرنے سے چند دن پہلے ایک مباہلہ کا کاغذ اس نے لکھا جس میں اپنا اور میرا نام ذکر کرکے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ ہلاک ہو۔ خدا کی قدرت کہ وہ کاغذ ابھی کاتب کے ہاتھ میں ہی تھا اور وہ کاپی لکھ رہا تھا کہ چراغ دین مع اپنے دونوں بیٹوں کے اُسی دن ہمیشہ کیلئے رخصت ہو گیا۔ 3 ۱؂ یہ ہیں میرے مخالف الہاموں کا دعویٰ کرنیوالے جو مجھے دجال ٹھہراتے ہیں۔ کوئی شخص اُن کے انجام پر غور نہیں کرتا۔ القصہ حضرات مولوی صاحبان چراغدین مرتد کا ساتھ دیکر بھی اپنی مراد کو نہ پہنچ سکے۔ پھر بعد اسکے ایک اور چراغدین پیدا ہوا یعنی ڈاکٹر عبد الحکیم خان۔ یہ شخص بھی مجھے دجال ٹھہراتا ہے اور پہلے چراغدین کی طرح اپنے تئیں مُرسلین میں سے شمار کرتا ہے مگر معلوم نہیں کہ پہلے چراغدین کی طرح میرے قتل کرنے کے لئے اِس کو بھی حضرت عیسیٰ نے عصا دیا ہے یا نہیں۔* تکبر اور غرور میں تو پہلے * حضرت عیسیٰ نے جو میرے قتل کرنے کیلئے چراغدین کو عصا دیا معلوم نہیں کہ یہ جوش اور غضب کیوں اُن کے دل میں بھڑکا۔ اگر اسلئے ناراض ہو گئے کہ میں نے اُن کا مرنا دنیا میں شائع کیا ہے تو یہ اُنکی غلطی ہے یہ میں نے شائع نہیں کیا بلکہ اُس نے شائع کیا ہے جس کی مخلوق ہماری طرح حضرت عیسیٰ بھی ہیں اگر شک ہو تو یہ آیت دیکھیں 33 ۲؂ اور نیز یہ آیت 3 ۳؂ ۔ اور تعجب کہ جس کو وہ میرے ہلاک کرنے کیلئے عصا دیتے ہیں وہ آپ ہی ہلاک ہو جاتا ہے یہ خوب عصا ہے۔ سُنا ہے کہ دوسرے چراغدین یعنی عبدالحکیم خان نے بھی میری موت کے بارے میں کوئی پیشگوئی پہلے چراغ دین کی طرح کی ہے مگر معلوم نہیں کہ اُس میں کوئی عصا کا بھی ذکر ہے یا نہیں۔ منہ