اس کے نیچے پانی ہے مگر وہ پانی زمین کی کئی تہوں کے نیچے دبا ہوا ہے اور کئی قسم کا کیچڑ اس کے ساتھ ملا ہوا ہے اور جب تک ایک پوری مشقت سے کام نہ لیا جائے اور زمین کو بہت دنوں تک کھودا نہ جائے تب تک وہ پانی جو شفاف اور شیریں اور قابل استعمال ہے نکل نہیں سکتا پس یہ کمال شقوت اور نادانی اور بد بختی ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ انسانی کمال بس اسی پر ختم ہے کہ کسی کو کوئی سچی خواب آجائے یا سچا الہام ہو جائے بلکہ انسانی کمال کے لئے اور بہت سے لوازم اور شرائط ہیں اور جب تک وہ متحقق نہ ہوں تب تک یہ خوابیں اور الہام بھی مکر اللہ میں داخل ہیں خدا اُن کے شرّ سے ہر اؔ یک سالک کو محفوظ رکھے۔ اِس جگہ پر الہام کے فریفتہ کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ وحی د۲و قسم کی ہے۔ وحی الابتلا اور وحی الاصطفاء، وحی الابتلا بعض اوقات موجبِ ہلاکت ہو جاتی ہے جیسا کہ بلعم اسی وجہ سے ہلاک ہوا۔ مگر صاحبِ وحی الاصطفاء کبھی ہلاک نہیں ہوتا۔ اور وحی الابتلا بھی ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتی بلکہ بعض انسانی طبیعتیں ایسی بھی ہیں کہ جیسے جسمانی طور پر بہت سے لوگ گونگے اور بہرے اور اندھے پیدا ہوتے ہیں ایسا ہی بعض کی روحانی قوتیں کالعدم ہوتی ہیں۔ اور جیسے اندھے دوسروں کی رہنمائی سے اپنا گذارہ کر سکتے ہیں ایسا ہی یہ لوگ بھی کرتے ہیں لیکن بوجہ عام شہادت کے جو بداہت کا حکم رکھتی ہے اُن کو اِن واقعات حقّہ سے انکار نہیں ہو سکتا اور نہیں کہہ سکتے کہ دوسرے تمام لوگ بھی اُن کی طرح اندھے ہی ہیں جیسا کہ ہر روز مشاہدہ میں آتا ہے کہ کوئی اندھا اس بات پر جھگڑا نہیں کر سکتا کہ سوجا کھا ہونے کا دعویٰ کرنے والے جھوٹے ہیں اور نہ اس سے انکار کر سکتا ہے کہ بجز اس کے ہزاروں آدمیوں کی آنکھیں موجود ہیں کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ وہ لوگ اپنی آنکھوں سے کام لیتے ہیں اور وہ کام کر سکتے ہیں جو اندھا نہیں کر سکتا ہاں اگر ایسا زمانہ آتا جس میں سب لوگ اندھے ہی اندھے ہوتے اور ایک بھی سو جا کھانہ ہوتا۔ تب اِس بحث کے پیدا ہونے کے وقت کہ گذشتہ زمانوں میں سے کوئی ایسا زمانہ بھی تھا کہ اس میں سوجاکھے ہی پیدا ہوتے تھے اندھوں کو انکار اور لڑائی اور جھگڑے کی بہت گنجائش تھی بلکہ میرے خیال میں ہے کہ انجامِ کار اِس بحث میں اندھوں کی ہی فتح ہوتی کیونکہ جو