میں خدا کی قبولیت اور محبت اور فضل کے کچھ آثار نہیں ہوتے اور نہ ایسے لوگ نفسانی نجاستوں سے پاک ہوتے ہیں اور خوابیں محض اس لئے آتی ہیں کہ تا اُن پر خدا کے پاک نبیوں پر ایمان لانے کے لئے ایک حجت ہو کیونکہ اگر وہ سچی خوابوں اور سچے الہامات کی حقیقت سمجھنے سے قطعاً محروم ہوں اور اس بارے میں کوئی ایسا علم جس کو علم الیقین کہنا چاہئے ان کو حاصل نہ ہو تو خدا تعالیٰ کے سامنے اُن کا عذر ہو سکتا ہے کہ وہ نبوت کی حقیقت کو سمجھ نہیں سکتے تھے کیونکہ اِس کوچہ سے بکلی نا آشنا تھے اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ نبوت کی حقیقت سے ہم محض بے خبر تھے اور اس کے سمجھنے کے لئے ہماری فطرؔ ت کو کوئی نمونہ نہیں دیا گیا تھا۔ پس ہم اس مخفی حقیقت کو کیونکر سمجھ سکتے اس لئے سنّت اللہ قدیم سے اور جب سے دنیا کی بناڈالی گئی اس طرح پر جاری ہے کہ نمونہ کے طور پر عام لوگوں کو قطع نظر اس سے کہ وہ نیک ہوں یا بد ہوں اور صالح ہوں یا فاسق ہوں اور مذہب میں سچے ہوں یا جھوٹا مذہب رکھتے ہوں کسی قدر سچی خوابیں دکھلائی جاتی ہیں یا سچے الہام بھی دئیے جاتے ہیں تا اُن کا قیاس اور گمان جو محض نقل اور سماع سے حاصل ہے علم الیقین تک پہنچ جائے* اور تا روحانی ترقی کیلئے اُن کے ہاتھ میں کوئی نمونہ ہو۔ اور حکیم مطلق نے اس مُدعا کے پورا کرنے کیلئے انسانی دماغ کی بناوٹ ہی ایسی رکھی ہے اور ایسے روحانی قویٰ اسکو دئیے ہیں کہ وہ بعض سچی خوابیں دیکھ سکتا ہے اور بعض سچے الہام پا سکتا ہے۔ مگر وہ سچی خوابیں اور سچے الہام کسی وجاہت اور بزرگی پر دلالت نہیں کرتے بلکہ وہ محض نمونہ کے طور پر ترقی کیلئے ایک راہیں ہوتی ہیں۔ اور اگر ایسی خوابوں اور ایسے الہاموں کو کسی بات پر کچھ دلالت ہے تو صرف اِس بات پر کہ ایسے انسان کی فطرت صحیح ہے بشرطیکہ جذبات نفسانیہ کی وجہ سے انجام بدنہ ہو اور ایسی فطرت سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر درمیان میں روکیں اور حجاب پیش نہ آجائیں تو وہ ترقی کر سکتا ہے جیسے مثلاً ایک زمین ہے جس کی نسبت بعض علامات سے ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ
* علم تین۳ قسم پر ہوتا ہے (۱) ایک علم الیقین جیسا کہ کوئی دور سے دھواں دیکھ کر یہ قیاس کرے کہ اس جگہ ضرور آگ ہوگی (۲) دوسرا عین الیقین جیسا کہ کوئی اُس آگ کو اپنی آنکھ سے دیکھ لے (۳) تیسرا حق الیقین جیسا کہ کوئی اُس آگ میں ہاتھ ڈال کر اُس کی گرمی محسوس کرلے۔ منہ